کٹوتی کے بعد سعودی وزراء کی تن خواہیں کیا ہوں گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ کے اجلاس کے دوران بچت اسکیم کا آغاز وزراء، اراکین مجلس شوریٰ اور سرکاری افسروں کو ملنے والی ماہانہ تن خواہوں میں کمی سے کرکے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں وزراء اور سرکاری افسروں کی تنخواہوں میں کمی کے ساتھ انھیں حاصل اضافی مالی مراعات اور بونس بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک وزیر کی تنخواہ میں 20 فی صد کمی کی گئی ہے۔

سرکاری سطح پر جاری ہونے والے بیانات اور اعداد وشمار کے مطابق ایک وزیر اور اس کے برابر درجے کے اعلیٰ سرکاری عہدے دار کی تنخواہ 51 ہزار 750 ریال سے کم کرکے 41 ہزار 400 ریال کردی گئی ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب میں وزراء اور ان کے عہدوں کے مساوی افسروں کی کل تعداد 143 ہے۔

وزراء اور ان کے مساوی افسروں کی تنخواہوں کی کل مالیت 7.4 ملین ریال ( 74 لاکھ ریال) تھی۔ 20 فی صد کٹوتی کے بعد اب وزراء کی تنخواہوں کا حجم 59 لاکھ ریال رہ گیا ہے۔

مجلس شوریٰ کے 150 ارکان کی تنخواہوں میں 15 فی صد کمی کی گئی ہے۔ ایک رکن شوریٰ کی تنخواہ 26450 ریال تھی۔ پندرہ فی صد کٹوتی کے بعد اب نئی تنخواہ 22483 ریال رہ گئی ہے۔

تمام ارکان شوریٰ کی مجموعی تںخواہ کا حجم کٹوتی سے قبل 3.96 ملین ریال تھا اور کٹوتی کے بعد یہ رقم 3.37 ملین ریال رہ گئی ہے۔ تنخواہوں میں کمی کے فیصلے کا اطلاق نئے ھجری سال 1438ھ کے آغاز سے ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں