.

حلب میں 6 لاکھ سے زیادہ شامیوں کو نسل کشی کے خطرے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ریاض نعسان آغا نے کہا ہے کہ حلب میں مقیم چھے لاکھ سے زیادہ شہریوں کو نسل کشی کے خطرے کا سامنا ہے۔

نعسان آغا نے العربیہ کے سسٹر چینل الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی اور روسی طیاروں کی حلب میں ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ پر بمباری کے بعد سے قریباً بیس لاکھ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔ مشرقی حلب میں اس وقت مقیم قریباً ڈھائی لاکھ شامیوں کو پانی کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

حزب اختلاف کے ترجمان کے اس بیان سے قبل عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) اور بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے منگل کے روز مشرقی حلب سے بیسیوں بیماروں اور شدید زخمیوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ انھیں علاج معالجے کی بہتر سہولتیں مہیا کی جاسکیں۔

حلب میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان بھی شدید زخمیوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے خبردار کیا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والوں کو اگر بروقت بہتر سہولتیں مہیا نہ گئیں تو ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔