ایران کی جانب سے شام میں لڑائی کے لیے عراقی بچوں کی بھرتی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

داعش تنظیم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے بھی تہران کے آشیرباد سے عراقی بچوں کے بھرتی کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بھرتی کا مقصد شام میں بشار الاسد کی ملیشیاؤں کی معاونت ہے۔

انسانی حقوق کی متعدد رپورٹوں ، سرگرم کارکنان اور یہاں تک کہ عراقی صوبے ذی قار میں پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کے گروپوں نے بھی بعض ایران نواز مسلح گروپوں کی طرف سے شام میں لڑائی کے لیے نا اہل بچوں کی بھرتی کی پر زور مذمت کی ہے.. ساتھ ہی عراقی حکومت سے مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اس گومگو صورت حال پر روک لگا کر ان عناصر کی کڑی نگرانی کی جائے جو ان بچوں کو بھرتی کر کے بیرون ملک منتقل کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھرتی کیے جانے والے بچوں کے گھر والوں کو پرکشش معاوضے کی ادائیگی کے بعد ان بچوں ایرانی پاسپورٹ فراہم کر کے ایران کے راستے شام منتقل کر دیا جاتا ہے۔ بھرتی کیے جانے والے بچوں کی تعداد کا اندازہ تقریبا چار ہزار لگایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں 18 برس سے کم عمر لڑکوں کو کشش دلائی جاتی ہے اور کبھی کبھی اس معاملے کا ان کے گھر والوں کو بھی علم نہیں ہوتا۔ بالخصوص ذی قار اور اشرف کے دو عسکری کیمپوں میں جہاں سے شام اور عراق میں محاذوں پر فرنٹ لائن دستوں کے لیے کمک فراہم کی جاتی ہے۔

ہر ماہ مختلف محاذوں سے بے جان لاشوں کی صورت میں واپس لائے جانے والے بچوں کی تعداد 20 سے 100 کے درمیان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں