.

بچوں کے بعد.. حوثی ملیشیاؤں کا معرکوں میں خواتین کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حوثی ملیشیاؤں نے بچوں کے استحصال کے بعد اب خواتین کا سہارا لے لیا ہے۔ اس سلسلے میں ملیشیاؤں نے صنعاء میں خواتین جنگجوؤں پر مشتمل عسکری بریگیڈز تشکیل دیے ہیں۔

صنعاء میں مقامی ذرائع کی تصدیق کے مطابق بھرتی کی گئی متعدد حوثی جنگجو خواتین نے دارالحکومت کے وسطی علاقے سواد حنش میں قبائلی رہ نما عبدالوہاب الغزی کے گھر پر دھاوا بول کر مذکورہ رہ نما اور ان کے تین بھائیوں کو اغوا کر لیا۔ اس دوران گھر میں موجود رقم لوٹ لی گئی اور خواتین سے وحشیانہ سلوک بھی برتا گیا۔ یہ کارروائی شیخ الغزی کے 26 ستمبر کے انقلاب کی یاد منانے کی تقریب میں شرکت کے بعد عمل میں آئی ہے۔

دوسری جانب یمنی سرکاری فوج کے متعدد کمانڈروں کی جانب سے صنعاء کے آئندہ معرکے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ بریگیڈیئر محمد الحجوری کے مطابق سرکاری فوج کے 8 بٹالین اور بریگیڈز دالحکومت صنعاء کو واپس لینے کے لیے تیار ہیں اور دارالحکومت میں داخل ہونے کے لیے ملحقہ علاقوں میں شیوخ اور چیدہ شخصیات کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔

ادھر تعز شہر کے مغرب میں سرکاری فوج نے جبل ہان کے احاطے میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ایک بڑے حملے کو پسپا کر دیا۔ اس دوران 9 حوثی ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے جب کہ سرکاری فوج کے دو اہل کار جاں بحق ہوئے۔