.

تیل کی قیمتیں صحیح سمت گامزن ہیں : سعودی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں توانائی ، صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر خالد الفالح کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والا "اوپیک" کا اجلاس مشاورتی نوعیت کا ہوگا اور اس میں کسی نئے فیصلے کی توقع نہیں ہے۔

"العربیہ" کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے الفالح نے بتایا کہ سعودی عرب نے ایران ، نائجیریا اور لیبیا کو یہ پیش کش کی ہے کہ وہ اپنی پیداوار کو اس بلند ترین سطح پر برقرار رکھیں جہاں وہ کچھ عرصہ قبل پہنچی چکی ہے جب کہ دیگر ممالک اپنی پیداوار کو اتفاق رائے سے طے پانے والی سطح پر رکھیں گے۔

الفالح نے واضح کیا کہ آج بدھ کے روز ہونے والے مشاورتی اجلاس پر جون میں منعقدہ اوپیک کے اجلاس سے ہی اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مشاورت کے بعد سامنے آنے والی تجاویز کو نومبر میں اوپیک کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

توانائی کے سعودی وزیر نے اس جانب توجہ دلائی کہ بھاری لاگت پر تیل پیدا کرنے والے ضمنی ممالک کی پیداوار میں بڑی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا میں خام حالت کے تیل (شیل آئل) کی پیداوار میں یومیہ دس لاکھ بیرل کی کمی آئی ہے۔

الفالح نے باور کرایا کہ تمام تر اشاریے یہ بتا رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں صحیح سمت گامزن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی پیداوار منجمد کرنے کی شرائط میں یہ شامل ہے کہ تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک اس پر آمادہ ہوں۔ الفالح کے مطابق اوپیک ممالک کی آمادگی کی صورت میں روس اپنی پیداوار منجمد کرنے پر تیار ہے۔