.

شامی اپوزیشن کی اپنے جنگجوؤں کو نئے راکٹ ملنے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد کے سربراہ اسعد الزعبی نے الحدث نیوز چینل سے گفتگو میں اپوزیشن جنگجوؤں کو کسی بھی قسم کے نئے راکٹ ملنے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومتی میڈیا اپوزیشن کو گراڈ راکٹوں کے ملنے کی خبر پھیلا رہا ہے۔ الزعبی نے واضح کیا کہ اپوزیشن جنگجوؤں کے پاس جو گراڈ راکٹ ہیں وہ انہوں نے حکومتی فوج کے قبضے سے لیے تھے۔ ان کے مطابق حکومت حلب میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سے قبل شام میں ایک اپوزیشن رہ نما نے بدھ کے روز غیرملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بعض بیرونی ممالک نے اپوزیشن جنگجوؤں کو زمین سے زمین تک مار کرنے والے جدید نوعیت کے گراڈ راکٹ فراہم کیے ہیں جو اس سے قبل کبھی نہیں ملے۔ یہ پیش رفت حلب میں روسی معاونت سے جاری بڑے حملے کے جواب میں سامنے آئی ہے۔

کرنل فارس البیوش کے مطابق اپوزیشن جنگجوؤں کو 22 سے 40 کلومیٹر تک مار کرنے والے "شان دار نوعیت" کے گراڈ راکٹ حاصل ہوئے جو حلب ، حماہ اور ساحلی علاقے میں محاذوں پر استعمال کیے جائیں گے۔

اس کے ساتھ شامی اپوزیشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ روسی فضائیہ کے ساتھ مل کر حلب کے مختلف علاقوں پر حملوں کے ذریعے اجتماعی نسل کشی کا ارتکاب نہ کرے۔

اپوزیشن گروپوں کے مطابق انہوں نے شامی حکومت کی جانب سے حلب شہر کو واپس لینے کے لیے وسیع پیمانے پر کیے جانے والے زمینی حملے کو پسپا کر دیا ہے۔ حملے میں روسی فضائیہ کی معاونت بھی حاصل تھی۔

دوسری جانب طبی میدان میں سرگرم کارکنان نے بتایا ہے کہ بدھ کی صبح حلب شہر کے مشرقی حصے میں اپوزیشن گروپوں کے زیرکنٹرول ایک ہسپتال کو فضائی حملے میں نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں وہاں کام کا سلسلہ رک گیا۔

ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ریڈیولوجسٹ محمد ابو رجب نے غیرملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ " صبح چار بجے کے قریب ایک جنگی طیارہ ہمارے سروں پر منڈلایا اور فورا ہی اس ہسپتال پر اپنے راکٹ داغ دیے۔ اس کے نتیجے میں ملبہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں موجود مریضوں پر آ گرا "۔

گزشتہ ہفتے فائربندی کے ٹوٹ جانے کے بعد حلب میں اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقے پر شدید بم باری کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ سے عالمی برادری کو علاقے کی 2.5 لاکھ کی آبادی کے کڑی آزمائش میں مبتلا ہونے کے حوالے سے سخت اندیشے لاحق ہو گئے ہیں۔