.

شاہ عبدالعزیز آل سعود کی قاتلانہ حملے میں نجات کا قصہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ضلع زلفی میں پہاڑوں کے بیچ واقع بیٹھک میں 107 سالہ سعودی معمر شہری شیخ عبداللہ القشعمی اپنی مجلس کے دوران مملکت کی تاریخ کے اہم واقعات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ زلفی شہر سے 40 کلومیٹر شمال مغرب میں "شیخ القشعمی کا ڈیرہ" انتہائی سادہ نوعیت کا ہے جس کی اندرونی دیواریں مٹی کی ہیں اور ان پر بعض اشیاء لٹکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود اس ڈیرے کا دورہ کر چکے ہیں جب کہ موجودہ فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز بھی اس سے اچھی طرح آشنا ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو شیخ القشعمی کے انٹرویو کے سلسلے میں زلفی کے ایک مقامی شہری ناصر الحمیدی کی معاونت حاصل رہی۔

القشعمی کی پیدائش

شیخ عبداللہ القشعمی کی پیدائش جراب کے مشہور معرکے (1915ء) سے قبل ہوئی جس میں ایک فریق کی قیادت شاہ عبدالعزیز کے ہاتھ میں تھی۔ شيخ القشعمی کہتے ہیں کہ اس معرکے وقت ان کی عمر تین سال کے قریب تھی جب کہ زلفی کے مقابل ہونے والا روضہ السبلہ کا مقابلہ ہوا تو وہ سترہ برس کے ہوچکے تھے۔ اس معرکے کے چار برس بعد مملکت سعودی عرب کو یکجا کرنے کا اعلان کیا گیا۔ شیخ کے مطابق شاہ عبدالعزیز آل سعود زلفی میں ایک جمعے کو پہنچے اور پھر ایک ہفتہ قیام کے بعد فیصلہ کن معرکے کے لیے اگلے جمعے کوچ کر گئے۔

القشعمی روضہ السبلہ کے معرکے کو ایک عظیم "واقعہ" قرار دیتے ہیں جس میں اللہ عزوجل نے شاہ عبدالعزیز کو اپنے مخاصمین پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائی۔

مکہ میں شاہ عبدالعزیز قاتلانہ حملے میں محفوظ

ایک اہم واقعہ جو شیخ القشعمی کو کسی طور نہیں بھولتا وہ 1353هـ یعنی کہ مملکت کے یکجا ہونے کے دو برس بعد پیش آیا۔ شیخ نے اپنی والدہ کے ساتھ حج کے سفر کا ارادہ کیا۔ شاہ عبدالعزیز بھی اس سال عازم حج کے طور پر مکہ مکرمہ پہنچے تھے۔ شیخ القشعمی بتاتے ہیں کہ "عید کے روز ہم بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ شاہ عبدالعزیز ہمارے سامنے تھے اور ان کے پیچھے شاہ کے بیٹے (شاہ) سعود تھے۔ اس دوران اچانک سے تین افراد نے آگے بڑھ کر شاہ عبدالعزیز پر حملے کی کوشش کی ان میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ جب وہ شخص شاہ کے نزدیک پہنچا تو ان کے بیٹے (شاہ) سعود نے اس کو روک دیا تاہم خنجر سے (شاہ) سعود کا بازو زخمی ہو گیا۔ اللہ نے شاہ عبدالعزیز کو غداروں کی چال سے بچا لیا۔ خنجر تھامے یمنی کو فوری طور پر ہلاک کر دیا گیا جب کہ بقیہ دو کو پکڑ لیا گیا"۔

شیخ القشعمی کے مطابق وہ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں اور پورا واقعہ آج بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ حملہ آور کو حرم سے نکالے جانے اور صفائی تک شاہ عبدالعزیز نے توقف کیا اور پھر اس کے بعد انہوں نے اپنا طواف مکمل کیا۔ اگلے روز ہم نے منی میں ان سے ملاقات کی اور سلامت رہنے پر مبارک باد بھی دی۔

اس سال حج کے بعد پریڈ کا اعلان کیا گیا جو مکہ مکرمہ میں قصر سقاف کے سامنے ہوئی۔ پریڈ میں اونٹ اور گھوڑ سواروں کے علاوہ پیدل چلنے والوں نے بھی شرکت کی۔ یہ سب خوشی اور قوت کا اظہار تھا۔ اس دوران شاہ فیصل کو افتخار کے ساتھ بندوق لہراتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

شاہ عبدالعزیز کی وفات

القشعمی کے نزدیک وہ یہ وواقعہ نہیں بھول سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ "ہم یہ سمجھتے تھے کہ اگر شاہ عبدالعزیز وفات پا گئے تو قیامت آجائے گی تاہم ان کی وفات کے موقع پر سب کچھ معمول کے مطابق رہا اور انہوں نے جو مربوط مملکت قائم کی تھی اس میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی"۔

شیخ کے مطابق " شاہ عبدالعزیز کے لیے آنکھوں نے رونا بند نہ کیا۔ ہم ابھی تک اپنی نمازوں اور تنہائیوں میں ان کے اور ان کی اولاد کے واسطے دعائیں کرتے ہیں۔ وہ ایک حقیقی ہیرو ہیں جن کا شمار عظیم شخصیات میں ہوتا ہے"۔

شیخ القشعمی کا شاہ سلمان کے ساتھ تعلق

شیخ القشعمی نے باور کرایا کہ شاہ سلمان ہمیشہ مجھ سے مزاح فرماتے ہیں۔

القشعمی نے بتایا کہ " دو سال قبل وہ شاہ سلمان سے ملاقات کے لیے جدہ گئے تو شاہ نے میرے ہاتھ میں چھڑی دیکھ کر کہا کہ آپ کے ہاتھ میں چھڑی کیوں ہے.. کیا کسی کی پٹائی کرنا ہے"۔

القشعمی نے مزید بتایا کہ شاہ سلمان نے ایک مرتبہ ان کے بارے میں کہا کہ " یہ ہمارے آخری آباؤاجداد میں سے ہیں (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) ، اس وطن کو امن و امان کا گہوارہ بنائے جیسا کہ شاہ عبدالعزیز نے اس کے بارے میں سوچا تھا "۔