.

المالکی اقتدار میں واپسی کے لیے کُردوں کو سیڑھی بنا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق وزیر مالیات ہوشیار زیباری کے مطابق ان کی برطرفی کے پیچھے سابق وزیراعظم نوری المالکی کا ہاتھ ہے۔ زیباری نے یہ بات 22 ستمبر کو پارلیمنٹ کی جانب سے خود پر عدم اعتماد کے اظہار کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہی تھی۔ زیباری کا موقف ہے کہ تہران حکومت کے نزدیک شمار کیے جانے والے المالکی ایک کے بعد دوسرے وزیر کی برطرفی کے ذریعے وزیراعظم حیدر العبادی کی حکومت کو ناکام بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس سے قبل وزیر دفاع خالد العبیدی سمیت تین وزراء برطرف کیے جا چکے ہیں۔ تاہم کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی تیسری اہم ترین شخصیت ہوشیار زیباری کی برطرفی نے عراقی سیاسی منظرنامے پر پیش رفت کی ایک دوسری جانب واضح کر دی ہے۔ بعض سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی شخصیات کے مطابق اس پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوری المالکی حکمرانی کی کرسی کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔

پہلی مرتبہ، پارلیمنٹ میں کرد اختلاف

ہوشیار زیباری کے مطابق ان کے خلاف عدم اعتماد کے لیے رائے شماری خفیہ رکھی گئی اس لیے بہت سے ارکان پارلیمنٹ جنہوں نے زیباری کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا اپنے وعدوں سے مکر گئے اور ان کا نفاق سامنے آگیا۔

تاہم سب سے زیادہ حیرت انگیز موقف کردستان نیشنل یونین کے بلاک کی خاتون سربراہ کا تھا جنہوں نے زیباری کے خلاف اپنے ووٹ کو بلند کر کے دکھایا جو کہ عدم اعتماد کے لیے ان کی اعلانیہ آمادگی کا ثبوت تھا۔ عراقی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ کرد بلاک میں پھوٹ پڑ گئی جب کہ اس سے قبل درالحکومت میں کردوں کا یکساں موقف ضرب المثل بن چکا تھا۔

زیباری نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ "پارلیمنٹ میں اسٹیٹ آف لاء کولیشن اور اس کا سربراہ نوری المالکی جو نہ صرف کردستان صوبے سے بلکہ حیدر العبادی کے زیرصدارت موجودہ حکومت سے بھی عداوت رکھتا ہے.. داعش کے خلاف جنگ اور اقتصادی بحران کے بیچ جب کہ ہم قرض کے حصول کی کوششیں کر رہے ہیں.. حکومت کو ناکام کرانے کے لیے وزراء کی برطرفی کے لیے کوشاں ہیں"۔

المالکی اور کُرد

نوری المالکی اور کُردوں کے درمیان اختلافات کو سب جانتے ہیں۔ کردوں نے المالکی کو متعدد مرتبہ وعدہ خلافی کا مورود الزام ٹھہرایا کیوں کہ اس سے قبل وہ وزارت عظمی تک پہنچنے کے لیے ان کی سپورٹ حاصل کرتا رہا تھا۔ اختلافات اپنے عروج پر اس وقت پہنچے جب المالکی نے قومی بجٹ میں سے کردستان کو اس کا حصہ دینے سے انکار کر دیا۔ المالکی نے یہ اقدام کردستان کی جانب سے خودمختار طور پر تیل کی فروخت کے معاہدے کر لینے کے بعد اٹھایا تھا۔ اس کے نتیجے میں کرد صوبے کو اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ المالکی کردوں کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے البارزانی کے مخاصم کردوں سے قریب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کردوں کی دو جماعتوں "الاتحاد الوطنی" اور "حركت التغيير" کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا اور 17 جون 2016 کو بغداد میں اپنے دفتر میں دونوں جماعتوں پر مشتمل ایک وفد کا استقبال کیا۔

واضح رہے کہ الاتحاد الوطنی الكردستانی اور حركت التغيير کے درمیان 17 مئی 2016 کو 25 شقوں پر مشتمل ایک سیاسی معاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے کی شق نمبر 13 کردستان صوبے کے اتحادی حکومت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ کردستان اور اتحادی حکومت کے درمیان مسائل کا مناسب حل بات چیت کے ذریعے قومی مفادات کی بنیاد پر تلاش کیا جائے"۔

کردستان صوبے کے سربراہ مسعود بارزانی کے زیر صدارت کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے مذکورہ معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے داخلی اختلافات وسیع ہوں گے اور یہ کردستان میں مسائل کے حل کے لیے کوئی کام نہ آئے گا۔

ادھر نوری المالکی کی دونوں کرد جماعتوں کے وفد سے ملاقات کے تقریبا ایک ماہ بعد بہت سے لوگوں نے یہ حیران کن منظر دیکھا کہ سابق وزیراعظم 18 جولائی کو سلیمانیہ شہر کے ہوائی اڈے پر طیارے سے مسکراتے ہوئے باہر آ رہے ہیں۔ یہاں ان کا استقبال کردستان نیشنل یونین پارٹی کے متعدد سینئر ذمہ داران نے کیا۔

المالکی نے بتایا ہ ان کا دورہ کرد رہ نماؤں کے ساتھ محض ایک عام ملاقات کے طور پر تھا۔

دوسری جانب "باس نيوز" ویب سائٹ نے کردستان میں ایک کرد ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ نوری المالکی کے سلیمانیہ کے دورے کا مقصد کردوں کی صفوں میں خلیج پیدا کرنا اور کرد جماعتوں سے حمایت وصول کرنا تھا تاکہ موجودہ وزیراعظم حیدر العبادی کو اقتدار سے ہٹا کر المالکی کی واپسی ممکن ہو سکے۔

قومی اتحاد کی جانب سے عدم تردید

ہوشیار زیباری کی برطرفی کے بعد قومی اتحاد بلاک سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ شوان داؤدی نے عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کو بتایا کہ ہمارے بلاک نے زیباری کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا کیوں کہ اب یہ پالیسی کہ اپنے بھائی کی مدد کرو کار گر نہیں۔ کردستان کے داخلی اختلافات سے المالکی کے فائدہ اٹھانے سے متعلق پھیلی خبروں کے حوالے سے داؤدی کا کہنا تھا کہ " یہ سوال اس فریق سے پوچھا جائے جو ان اختلافات کا سبب بنا ہے۔ (داؤدی کا اشارہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب تھا) اور جس نے بغداد کو اس اختلاف سے اپنے مفاد میں فائدہ اٹھانے کا موقع دیا ہے جو کہ یقینا ایک افسوس ناک امر ہے"۔

نوری المالکی کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کے اقتدار سے قریب آنے کی بات ابھی قبل از وقت ہے کیوں کہ شیعہ بلاکوں میں ہی ان کے سنجیدہ مخالفین موجود ہیں۔ ان میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عراق میں بدعنوانی کی بنیاد صحیح معنوں میں نوری المالکی کے دور میں رکھی گئی۔ سنی بلاک بھی المالکی کی مدت کی عدم توسیع پر مصر تھے جو ان کی پالیسیوں کو فرقہ وارانہ شمار کرتے ہیں اور ان پالیسیوں کی وجہ سے داعش عراق میں پروان چڑھی۔ بدعنوانی نے المالکی کے دور میں عراقی فوج کو ایسی فورس بنا دیا جس کے لیے داعش جیسے چھوٹے سے دشمن کے سامنے کھڑے رہنا بھی ممکن نہیں رہا۔