.

ٹیلی مواصلات.. عرب شہری مغرب کے مقابل 500% زیادہ ادا کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک میں سوشل میڈیا اور دیگر ایپلی کیشنوں (وائبر، ٹینگو، واٹس ایپ، اسکائپ وغیرہ) کے ذریعے مفت رابطے کی سہولت نے صارفین کو بڑی حد تک ادائیگی والی کالوں سے بے نیاز کردیا ہے۔ ان مفت خدمات کے سبب فون کالوں کے نرخ نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں جو ایک ملک میں دوسرے ملک سے مختلف ہوتے ہیں۔

بحرین میں ٹیلی مواصلات اتھارٹی( (TRAکے تزویراتی تجزیے کے شعبے"Teligen" نے کچھ عرصہ قبل 22 عرب ممالک میں(fixed and mobile broadband) کالوں کے نرخوں سے متعلق مطالعاتی رپورٹ تیار کی اور ان نرخوں کا موازنہ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے اوسط نرخوں سے کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تنظیم 34 ترقی یافتہ ممالک پر مشتمل ہے جن میں فرانس ، ڈنمارک ، امریکا ، آسٹریلیا ، جاپان اور پرتگال وغیرہ شامل ہیں۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ممالک میں ٹیلی مواصلات کے نرخ تمام خدمات میں OECD کے اوسط نرخوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عرب ممالک میں 420(fixed voice residential) کالوں کے اوسط نرخ 126 امریکی ڈالر ہیں جب کہ غیرممالک میں اس کے اوسط نرخ 76 ڈالر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے ہے کہ عرب صارف OECD کے رکن ممالک سے 65% زیادہ ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب اگر (fixed voice business) کی بات کی جائے تو عرب ممالک میں اس نوعیت کی 200 کالوں کے اوسط نرخ 109 امریکی ڈالر ہیں جب کہ OECD میں یہ 77 ڈالر ہیں ، اس طرح فرق تقریبا 42% کا ہے۔

تاہم یہ معاملہ موبائل کے ذریعے کالوں (Mobile voice costs) پر پوری طرح لاگو نہیں ہوتا ہے اور عرب ممالک میں اس خدمت کے اوسط نرخOECD کے اوسط نرخوں سے کم ہیں تاہم یہ صرف کم استعمال ہونے والی بکٹ اور ( (Mobile voice only without dataکی صورت میں ہے۔ بڑی بکٹس اور ڈیٹا کے ساتھ کالوں کی صورت میں عرب ممالک کے نرخ کافی بلند ہیں۔

مثلا عرب ممالک میں موبائل فون کے (30 کالوں) والی بکٹ کے اوسط نرخ 11 ڈالر ہیں جب کہ OECD ممالک میں یہ 13 ڈالر ہیں۔ تاہم بڑے پیمانے پر (900 کالوں) والی بکٹ کے اوسط نرخ 136 ڈالر ہیں جب کہ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے ممالک میں یہ نرخ 38 ڈالر ہیں۔ یعنی کہ عرب صارف مغربی صارف کے مقابلے میں 261% زیادہ ادا کر رہا ہے۔

تاہم موبائل کالوں کے ساتھ موبائل ڈیٹا ( Mobile voice and data) کی بات جب آتی ہے تو عرب ممالک اورOECD کے رکن ممالک کے درمیان فرق "دیوانگی" کی حد 499% تک نظر آتا ہے۔ عرب شہری (900 کالوں+2 گیگا بائٹ) کی بکٹ اوسطا تقریبا 265 ڈالر میں حاصل کرتا ہے جب کہ غیر ممالک میں صارف اسی بکٹ کے صرف 44 ڈالر ادا کرتا ہے۔

4G سروس کے ساتھ انٹرنیٹ

رپورٹ کے مطابق عرب ممالک میں ڈاؤن لوڈنگ کی اوسط رفتار 63 ایم بی/ سیکنڈ تک بڑھ چکی ہے جب کہ 2013 میں یہ 34 ایم بی / سیکنڈ تھی۔ انٹرنیٹ کی رفتار میں یہ اضافہ متعدد عرب ممالک میں 4G سروس کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے۔

عرب ممالک میں (30-100 ایم بی / سیکنڈ) کی رفتار کے ساتھ 200 جی بی کی بکٹ کے اوسط نرخ 142 ڈالر ہیں جب کہ OECD کے رکن ممالک میں یہ صرف 38 ڈالر ہیں۔

جہاں تک (Mobile Broadband for Laptops and Tablets)کے لیے اس سروس کا تعلق ہے تو (6 گیگا بائٹ - 30 روز) کی بکٹ کے نرخ عرب ممالک میں 57 ڈالر تک ہیں جب کہ اس کے مقابل OECD کے رکن ممالک میں یہ نرخ 25 ڈالر ہیں۔

مہنگے ترین نرخ کس عرب ملک میں ؟

عرب دنیا میں سیلولر کمیونی کیشن مارکیٹ کے سروے کے مطابق 15 عرب ممالک میں بعد از استعمال ادائیگی(Postpaid Cellular Connection Fees) کے لحاظ سے سب سے زیادہ نرخ لبنان میں ہیں۔ یہ سروے Arab Advisors Group کی جانب سے کرایا گیا۔

لبنان میں بعد از ادائیگی کے نرخ 55 امریکی ڈالر ہیں جو سعودی عرب (60.15 ڈالر) اور کویت (67.56 دولار) سے تو کم ہیں تاہم یہ عرب ممالک کے اوسط نرخ 26.74 امریکی ڈالر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

سروے میں متعدد عرب ممالک میں 39 سیلولر کمپنیوں کو شامل کیا گیا تھا۔

سروے کے نتائج کے مطابق لبنان میں سیلولر اور انٹرنیٹ سروس کے بعد از استعمال ادائیگی والے پیکج کے نرخ 118.1 ڈالر ہیں۔ یہ عرب دنیا میں تو بلند ترین ہیں تاہم عرب دنیا کے اوسط نرخ 56.6 ڈالر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند ہیں۔ لبنان کے بعد مہنگے ترین نرخوں میں لیبیا ، اردن اور سطنت عمان کا نمبر ہے۔