.

اسرائیل: 6 فلسطینیوں کے خلاف داعش سے تعلق کے الزام میں مقدمہ

گرفتار افراد مقبوضہ بیت المقدس میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے: پولیس کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے چھے فلسطینیوں کے خلاف داعش سے مشتبہ تعلق اور حملوں کی سازش کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''داعش کا یہ مبینہ سیل مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع شویفات کے مہاجر کیمپ میں کام کررہا تھا اور وہ مقبوضہ بیت المقدس ( یروشیلم) میں حملوں کی تیاری کررہا تھا''۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار فلسطینیوں میں ایک مذہبی اور نظریاتی رہ نما ہے اور وہ دوسرے ارکان سے مل کر ان حملوں کی سازش کررہا تھا۔تاہم پولیس نے ان مشتبہ افراد کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔ان کی گرفتاریاں چھے ہفتے کے ایک آپریشن کے بعد عمل میں آئی ہیں۔

واضح رہے کہ متعدد فلسطینی اور اسرائیل کے عرب شہری حالیہ برسوں کے دوران پڑوسی ملک شام میں داعش میں شمولیت کے لیے گئے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست پر ان انتہا پسندوں کا بہت محدود اثر ہے۔

تاہم اسرائیل کی داخلی سکیورٹی سروس شین بیت کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جن فلسطینیوں نے یہودیوں پر حملے کیے تھے،وہ بظاہر داعش سے متاثر تھے۔رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق 88 فی صد فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم اسلام کی نمائندگی نہیں کرتی ہے۔