.

زخموں سے چور شامی بچہ ڈاکٹر سے لپٹ گیا: ویڈیو

جنگ کی ہولناکیوں کے دلخراش مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی جنگ رہتی دنیا تک انسانیت کے قتل عام کی بدتریں یادیں چھوڑے گی مگر اس جنگ کا سب سے تاریک اور خوفناک پہلو معصوم بچوں کا اسدی فوج اور اس کے حواریوں کے حملوں میں نشانہ بنتے ہوئے شہید یا شدید زخمی ہونا بھی کم دردناک اور دلخراش نہیں۔

شام کی جنگ کے نتیجے میں لہو میں ڈوبے بچوں کی ان گنت کہانیاں آئے روز ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں۔ بچوں کے زخمی اور شہید ہونے کے دلخراش واقعات جنگ کی ہولناکی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس ضمن میں جنگ زدہ شامی شہر حلب سے ایک نئی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں شامی یا روسی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں زخمی اور خوف کا شکار ہونے والا ایک بچہ ڈاکٹر کے گلے سے لگ کر اس طرح لپٹا اس سے دور ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ چیختے چلاتے بچے کے زخموں کی تکلیف اپنی جگہ مگر وہ جس خوف کا شکار تھا وہ بھی کم المناک نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا کی ایک غیرمنافع بخش میڈیکل تنظیم SAMS کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں بتایا گیا ہے کہ ایک کم عمر شامی بچہ شمالی حلب کے ایک اسپتال میں لایا گیا جہاں وہ شدید زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ سخت خوف و ہراس کا بھی شکار تھا۔ بچے کو اسپتال میں علاج کے لیے پہنچایا گیا تو اس کا چہرہ اور باقی جسم خون میں لت پت تھا۔ بچے نے ڈاکٹر کو دیکھتے ہی اس سے اجنبی ہونے کے باوجود گلے سے چمٹ کر رونا شروع کر دیا۔ اس دلسوز منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا گیا اور اسے انٹرنیٹ پر لاکھوں افراد نے دیکھا ہے۔

ویڈیو فوٹیج میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بچہ گذشتہ جمعہ کو شمالی حلب میں نامعلوم بمبار طیاروں کی وحشیانہ بمباری کانشانہ بنا۔ اس بمباری میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 40 زخمیوں کو ایک چھوٹے اسپتال میں لایا گیا جن میں بیشتر بچے اور عورتیں تھی۔ ان شہریوں کو پناہ گزین کیمپوں میں بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی تنظیم SAMS نے اخبار ’ڈیلی میل‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حلب میں جہاں روزانہ کی بنیاد پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے وہیں اسپتالوں میں اودیہ کی شدید قلت پائی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حلب کے اسپتالوں میں کام کرنے والے 29 ڈاکٹر اپنے جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف نکل گئے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شام میں انسانیت کی ابدتری کی کیفیت ناقابل بیان ہے۔ حلب کے ایک اسپتال میں صرف ایک سرجن ہے جب کہ اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک سال قبل روسی فوج نے شام میں بشارالاسد کے دفاع کے لیے اپنی فوجیں اتاریں تو حلب کو بھی اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ہزاروں بچوں کے قتل کے بعد اس وقت بھی حلب میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ایک لاکھ بچے محاصرے ہیں جن کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

1