.

شامی فوج کی حلب میں موجود باغیوں کو محفوظ راستہ دینے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں نے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں پیش قدمی کی ہے اور باغیوں سے کہا ہے کہ وہ مشرقی حصے کو خالی کردیں۔ شامی اور روسی طیاروں نے رات شہر کے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصے پر تباہ کن بمباری کی تھی۔

شامی فوج نے باغی جنگجوؤں کو حلب کا مشرقی علاقہ چھوڑنے کی صورت میں محفوظ راستہ دینے اور امدادی سامان مہیا کرنے کی بھی پیش کش کی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے حلب کے شمال میں واقع حندرات کے مہاجر کیمپ کی جانب سے پیش قدمی کی ہے۔شامی فوج نے گذشتہ ہفتے اس کیمپ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے اب کندی اسپتال اور شوقیف کے صنعتی علاقے کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

شامی اور روسی لڑاکا طیاروں نے اتوار کو بھی مشرقی حلب کے مختلف حصوں پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔حلب سے تعلق رکھنے والے ایک باغی گروپ فاستقیم کے ایک کارکن زکریا ملحفجی نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ہے کہ اس علاقے میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔رصدگاہ نے بھی متحارب فورسز کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاع دی ہے۔

شامی فوج کی اعلیٰ کمان نے باغی جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ مشرقی حلب کے تمام علاقوں کو خالی کردیتے ہیں تو وہ انھیں محفوظ راستے اور ضروری امداد کی ضمانت دینے کو تیار ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے فوج کی اعلیٰ کمان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے باغی جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ گیارہ روز سے جاری بڑی کارروائی کے بعد پہلی مرتبہ کہا ہے کہ ''وہ حلب کو خالی کردیں اور اس کے مکینوں کو معمول کی زندگی گزارنے دیں''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اسٹیفن او برائن نے مشرقی حلب میں شدید بمباری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی ادارے کے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ لڑائی میں وقفہ کیا جائے،زخمیوں کو وہاں سے علاج کے لیے منتقل کرنے اور شہریوں تک انسانی امداد مہیا کرنے کی اجازت دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ حلب میں صحت کا نظام مکمل تباہی سے دوچار ہونے والا ہے۔مریضوں کو لوٹایا جارہا ہے اور عام بیماریوں کے علاج کے لیے بھی اسپتالوں میں ادویہ موجود نہیں ہیں۔ صاف پانی اور خوراک کم یاب ہوچکے ہیں۔

ہفتے کے روز شامی یا روسی طیاروں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں ایک بڑے اسپتال پر دو بیرل بم برسائے تھے اور ایک فیلڈ اسپتال پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس وقت مشرقی حلب میں صرف پانچ اسپتال کام کررہے ہیں جبکہ ایک شامی امریکی تنظیم کے زیرانتظام ایک اسپتال مسلسل پانچ فضائی حملوں کے بعد زخمیوں اور مریضوں کو خدمات مہیا کرنے کے قابل نہیں رہا ہے۔

شامی اور روسی طیاروں نے چودہ روز قبل جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے حلب میں باغیوں کے زیر قبضے علاقوں پر بلا تعطل بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں اب مزید مریضوں کے علاج کی گنجائش نہیں رہی ہے اور ان کے ہاں ادویہ اور دوسرے طبی سامان کی سپلائی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔