.

یمن کے خون خوار باغی کے لیے ایران کا انعام و اکرام

عبدالملک الحوثی کے لیے ’مزاحمتی ایوارڈ برائے 2016‘ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر قبضہ کرنے والے حوثی باغیوں کی حمایت اور ہر سطح پر مدد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ایران علی الاعلان حوثی باغیوں کی حمایت کرتے ہوئے یمن میں افراتفری کو ہوا دے رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت کی طرف سےحوثی باغیوں پر انعام و اکرام اور نوازشات کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں ایران نے یمن کے خون خوار باغی لیڈر عبدالملک الحوثی کی نہ صرف تکریم کی گئی بلکہ اسے سنہ 2016ء کا ’مزاحمتی ایوارڈ‘ بھی دیا گیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ ایوارڈ ایرانی حکومت کی طرف سے سنہ 2015ء میں لبنانی شیعہ ملیشیا اور لبنان میں نہتے شہریوں کے قتل عام میں ملوث حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو بھی دیا جا چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں تہران میں حوثی باغیوں کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں عبدالملک الحوثی کے نمائندہ عبداللہ المروانی نے شرکت کی۔ تقریب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے چیف جنر محمد علی جعفری، پاسیج موبلائزیشن کے سربراہ بریگیڈیئر محمد رضا نقدی اور بریگیڈیئر مہدی جمران سمیت کئی دوسرے سینیر فوجی افسران نے شرکت کی۔ تقریب میں یمن کے حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کی مسلح کارروائیوں پر ’مزاحمتی ایوارڈ برائے 2016‘ جاری کیا گیا۔ یہ ایوارڈ عبداللہ المروانی نے وصول کیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’تسنیم‘‘ کے مطابق یمنی حوثی لیڈر کے لیے مزاحمتی ایوارڈ تہران میں 14ویں مزاحمتی فلمی میلے کے اختتام پر منعقدہ ایک تقریب میں دیا گیا۔ اس سے قبل یہی ایوارڈ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو بھی دیا جا چکا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے یمن کے حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے لیے مزاحمتی ایوارڈ کا اجراء اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران یمن کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت اور بغاوت کو ہوا دینے کی سازشوں میں ملوث ہے۔ یمنی قوم کے قاتل ایک خون خوار باغی لیڈر کو مزاحمت کی علامت قرار دینا تہران کے خطے کے ممالک میں مداخلت کی پالیسیوں کا مظہر ہے۔

حال ہی میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے عسکری مشیر میر حسین فیروز آبادی نے ایک بیان میکں کہا تھا کہ ایران نے یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کیا البتہ ایرانی جنگی ماہرین حوثی باغیوں کو عسکری مہمات میں رہ نمائی اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ مضبوط طریقے سے مزاحمت جاری رکھ سکیں۔ ایران کا یہ دعویٰ بھی سراسر من گھڑت اور بے بنیاد ہے کہ تہران حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کررہا ہے۔ یمن سے سعودی عرب پر داغے گئے کئی بیلسٹک میزائل جن میں سے بیشتر کو فضاء میں تباہ کر دیا گیا تھا ایرانی ساختہ تھے۔