صدر محمودعباس کو شمعون پیریز کے جنازے میں شرکت پر تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی صدر محمود عباس کو اسرائیل کے سابق صدر اور وزیراعظم شمعون پیریز کے جنازے میں شرکت مہنگی پڑ گئی ہے اور انھیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنے اہم وطنوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

صدرعباس کے ناقدین سوشل میڈیا پر عربی زبان میں تحریریں اور ویڈیوز پوسٹ کررہے ہیں اور ان کا زیادہ تر زور بیان شمعون پیریز کے سیاسی اور عسکری ورثے پر ہے۔انھیں 1990ء میں فلسطینیوں کے ساتھ طے پائے اوسلو معاہدے کا معمار قرار دیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر انھیں اور مرحوم فلسطینی صدر یاسرعرفات کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

شمعون پیریز گذشتہ بدھ کو ترانوے سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔انھیں جمعے کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے سرکاری فوجی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ان کی آخری رسوم میں امریکی صدر براک اوباما سمیت متعدد عالمی رہ نماؤں نے شرکت کی تھی۔

لیکن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے والے دو عرب ممالک مصر کے صدر اور اردن کے شاہ نے شمعون پیریز کی آخری رسوم میں شرکت سے گریز کیا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس وہاں جا پہنچے تھے۔ان کی حریف فلسطینی جماعت حماس نے شمعون پیریز کے جنازے میں شرکت پر ان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے فلسطینی اصولوں سے انحراف کیا ہے۔

عرب دنیا اور سوشل میڈیا پر شمعون پیریز کے دور حکومت میں فلسطینیوں کے خلاف بہیمانہ مظالم کا حوالہ دیا گیا ہے اور خاص طور پر لبنان کے جنوب میں واقع گاؤں قانا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ایک کمپاؤنڈ پر اسرائیلی فوج کی بمباری کا ذکر کیا گیا ہے۔

حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران اس گاؤں پر بمباری سے ایک سو سے زیادہ شہری مارے گئے تھے۔اس وقت شمعون پیریز ہی اسرائیل کے وزیراعظم تھے۔اسرائیل نے تب دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فورسز تو راکٹ فائر کرنے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں پر حملہ آور تھیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ایک سینیر فلسطینی سکیورٹی افسر لفٹیننٹ کرنل اسامہ منصور کو ہفتے کے روز صدر محمود عباس پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر فلسطینی صدر کو شمعون پیریز کے جنازے میں شرکت پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے لکھا تھا: ''اگر ہمارے بچوں کے قاتل کے جنازے میں شرکت کا یہ فیصلہ آپ کا اپنا تھا تو آپ غلطی پر تھے۔اگر آپ نے یہ فیصلہ اپنے مشیروں کی سفارش پر کیا تھا تو پھر آپ کو گمراہ کیا گیا ہے''۔

آنجہانی صدر نے اسرائیلی فوج کو مضبوط بنانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔اںھوں نے 1950ء ، 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں وزیر دفاع کی حیثیت سے فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور جوہری پروگرام کو ترقی دینے کے علاوہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کو بسانے اور ان کی بستیوں کی توسیع کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے تحفظ کے لیے فوجی چیک پوائنٹس کا نظام متعارف کرایا تھا جس کی وجہ سے فلسطینیوں کی ان اپنے ہی علاقوں میں نقل وحرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے اور ان کی آئے دن قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

جنازے میں صدر محمود عباس پہلی صف میں کھڑے تھے اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پیریز کے خاندان نے مدعو کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مصافحہ بھی کیا تھا لیکن یہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں تھا کہ فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز میں اس مصافحے سے کوئی مدد مل سکتی ہے۔البتہ ان دونوں کے درمیان آمنے سامنے کی خبر اسرائیلی اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔

مگر عرب ناقدین نے فلسطینی صدر پر تیر ونشتر برسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایک فلسطینی بلاگر علی قراقعہ نے فیس بُک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں محمود عباس کو مخاطب ہو کر کہا: '' آپ ادھر ہی رہیں اور واپس آنے کی ضرورت نہیں''۔ان کی یہ ویڈیو سوموار تک تین لاکھ پینتالیس ہزار مرتبہ دیکھی جاچکی تھی اور تین ہزار آٹھ سو مرتبہ اس کو شئیر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب بعض لکھاریوں نے صدر محمود عباس کی حمایت کا بھی اظہار کیا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام اخبار الحیات الجدیدہ میں تبصرہ نگار باسم برہوم نے لکھا ہے کہ ''محمود عباس نے دنیا کو امن کا ایک پیغام بھیجا ہے۔اگر وہ جنازے میں شرکت نہ کرتے تو نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی کابینہ کے ارکان اب تک ڈھول پیٹ رہے ہوتے اور وہ یہ کہتے نہ تھکتے کہ فلسطینی صدر امن کے شراکت دار نہیں ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں