.

پیریز نے ایران پر اسرائیلی حملے کو کیوں روکا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ میں اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کی اس رپورٹ کو بہت زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بدھ کے روز فوت ہوجانے والے سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے اپنے ملک کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روک دیا تھا۔

ایرانی ویب سائٹ "عصر ايران" کے مطابق یہ رپورٹ پیریز کے فوت ہونے کے دو گھنٹے بعد ہی پھیل چکی تھی جس میں کہا گیا کہ سابق اسرائیلی صدر نے ایران پر حملے سے روکنے کو "اپنی مدت صدارت میں سب سے بڑی کامیابی" قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کے کارپوریشن کے زیر انتظام نیوز ایجنسی "یوتھ رپورٹرز کلب" نے اس خبر کو "مضحکہ خیز دعوؤں" پر مبنی قرار دیتے ہوئے پیریز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ قانا کے قتل عام اور غزہ پر حملے سمیت متعدد خون ریز کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ تل ابیب نے 2009 اور 2011 میں ایران پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا جس کے دوران ایرانی نیوکلیئر ری ایکٹروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو نے عسکری قوتوں کو ایران پر حملے کی ہدایت دے دی تھی تاہم شمعون پیریز نے نیتنیاہو کو اس اقدام سے روک دیا اور اس کے بھیانک نتائج سے بھی خبردار کیا"۔ اخبار کے مطابق نیتنیاہو نے اس حوالے سے پیریز کے موقف کو مان لیا تھا۔

اخبار نے بتایا ہے کہ شمعون پیریز نے اپنی وفات سے دو سال قبل اسی یروشلم پوسٹ کو ہی دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ "اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو بنیامین نیتنیاہو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کر لیتے"۔

سابق ذمہ داران کا دعوی ہے کہ موساد اور اسرائیلی فوج کے سربراہوں نے ایران پر حملے کا منصوبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس کا نتیجہ بڑی آفت کی صورت میں آئے گا۔ ایہود باراک جو اس وقت وزیر دفاع کے منصب پر فائز تھے ، انہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ پیریز نے ایران پر حملے کے حوالے سے نیتنیاہو کی تمام تر مساعی کو برباد کرنے میں مدد کی۔ 2015 میں باراک نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ "ایران کے خلاف اقدام کرنے کے حوالے سے دفاعی ادارے کے اندر مخالفت پائی جاتی تھی اور یہ صدر پیریز کی موجودگی میں تھی"۔