.

امریکا شام میں قیامِ امن کے لیے کوشاں ، روسی طیاروں کی حلب پر بمباری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شام کے بارے میں اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جنگ زدہ ملک میں امن کے لیے کوششوں سے ہاتھ نہیں کھینچا ہے جبکہ روسی اور شامی لڑاکا طیاروں نے حلب کے رہائشی علاقوں پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے برسلز میں منگل کے روز ایک تقریر میں کہا ہے:'' میں ہر کسی پر یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم شامی عوام کو چھوڑ رہے ہیں اور نہ امن کے لیے کوششوں کو ترک کررہے ہیں۔ہم کثیرالجہت میدان کو بھی چھوڑنے نہیں جارہے ہیں ،ہم اس جنگ کے خاتمے کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کی تلاش جاری رکھیں گے''۔

جان کیری کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی امریکا نے روس کے ساتھ شام میں جنگ بندی کے لیے جاری بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس نے روس پر جنگ بندی کے سابقہ سمجھوتے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ ''امریکا شام میں جنگی کارروائیوں کو روکنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر قائم کیے گئے دو طرفہ چینلز میں اپنی شرکت معطل کررہا ہے''۔ ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ کوئی بآسانی نہیں کیا گیا ہے۔

حلب پر حملے

ادھر شامی باغیوں نے شمالی شہر حلب کے جنوب میں اسدی فوج کے ایک حملے کو پسپا کرنے کی اطلاع دی ہے جبکہ شامی اور روسی طیاروں نے حلب کے محاصرہ زدہ علاقوں پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

باغیوں نے بتایا ہے کہ حلب کے مشرقی حصے کے جنوبی کنارے پر واقع علاقے شیخ سعد میں انھوں نے لڑائی کے دوران اسدی فوج اور اس کے اتحادی جنگجوؤں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے اور ان کے درمیان کئی گھنٹے تک جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

شامی باغیوں کے ایک گروپ فیلق الشام سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو عبداللہ الحلبی نے بتایا ہے کہ ''ہم نے انھیں شیخ سعد کی جانب پیش قدمی سے روک دیا ہے اور انھیں پسپا کردیا ہے۔لڑائی میں دس اسدی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی متعدد گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا ہے''۔

شام کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی مدد سے حلب پر مکمل کنٹرول کے لیے آگے بڑھ رہی ہے۔سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ باغیوں نے حکومت کے کنٹرول والے علاقے پر گولہ باری کی ہے جس سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک اور باغی گروپ نورالدین زنگی بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایک کمانڈر نے کہا ہے کہ اسدی فوج نے بیک وقت متعدد محاذ کھول لیے ہیں اور اس کا مقصد باغی جنگجوؤں کو منتشر کرنا ہے ۔شامی فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے یک ورقی اشتہار بھی گرائے ہیں جن میں باغیوں سے کہا گیا ہے وہ ہتھیار ڈال دیں۔

روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے علاقوں بوستان القصر ،ہئے الہلوک اور فردوس پر بمباری کی ہے جس سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔روسی اور شامی طیاروں نے دو قصبوں دراۃ الاعزا اور الضربا پر بھی بمباری کی ہے۔

دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع نواحی علاقے مشرقی القلمون میں باغیوں نے لڑائی کے دوران داعش کے کم سے کم تیس جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے اس علاقے پر قبضے کی کوشش کی تھی۔