.

’فتح الشام محاذ‘ کا اہم کمانڈر ابو فرج المصری ادلب میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سرگرم فتح الشام محاذ "جفش" نے ادلب میں اپنے ایک اہم کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ کمانڈر ابو فرج المصری کو شام کے شہر ادلب میں بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ خیال رہے کہ فتح الشام محاذ ماضی میں القاعدہ کا حصہ سمجھی جاتی رہی ہے مگر چند ماہ پیشتر تنظیم نے القاعدہ سے اپنا ناتا توڑ دیا تھا اور تنظیم کا نام بھی النصرہ محاذ سے تبدیل کر کے فتح الشام محاذ رکھ لیا تھا۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ شام میں القاعدہ کے ایک اہم کمانڈر کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام اس حملے کے نتائج پر غور کررہے ہیں۔

پینٹاگون کے نیول کیپٹن جیف ڈیویز نے بتایا کہ ہم شام میں القاعدہ تنظیم سے وابستہ ایک اہم جنگجو کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کرسکتے ہیں مگر فی الحال اس کے نتائج کے بارے میں حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

ادھر رائیٹرز کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ادلب میں ہلاک ہونے والے جنگجو کا تعلق مصر سے ہے۔ اسے شامی اپوزیشن کے زیرقبضہ ادلب شہر میں ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابو فرج المصری افغانستان میں بھی لڑائی میں شریک رہ چکا ہے۔ اسے حال ہی میں شمال مغربی شامی شہر ادلب میں الشغور پل کے قریب ڈرون طیارے کے ذریعے میزائل داغ کر ہلاک کیا گیا۔

ابو فرج المصری کون؟

شام میں ہلاک ہونے والے فتح الشام محاذ کے کمانڈر ابو فرج المصری کا تعلق مصر سے ہے اور اس کا اصل نام احمد سلامہ کمبروک عبدالرازق بتایا جاتا ہے۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ابو فرج المصری البانیا سے واپسی پر مصر میں گرفتار ہوا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سابق معزول صدر محمد مرسی نے صدارتی فرمان کے ذریعے قیدیوں کی معافی کے دوران المصری کی سزا بھی معاف کردی تھی۔ رہائی کے بعد اس نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مصر میں انصار بیت المقدس نامی تنظیم تشکیل دی۔ یہ گروپ اس وقت مصری فوج کے خلاف نبرد آزما ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد ابو المصری نے دیگر انتہا پسند ساتھیوں سے رابطہ کیا۔ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس نے توحید والجہاد، کتائب الفرقان، تنظیم رایات السودا کو یکا کرکے انہیں ’انصار بیت المقدس‘ کے پرچم تلے جمع کیا۔ اس گروپ سے وابستہ عناصر مصری فوج پر کئی قاتلانہ حملے کرچکے ہیں۔ تاہم ابو فرج المصری خود اس گروپ سے نکل کر شام چلا گیا جہاں اس نے النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انورسادات کے قتل کا الزام

مصر کے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابو فرج المصری کی سنہ پیدائش سنہ 1956ء کی ہے۔ اس نے سنہ 1970ء کےعشرے میں جہادی تنظیم قائم کی۔ اس کا نام مقتول صدر انور سادات کےقاتلوں میں بھی لیا جاتا رہا ہے۔

مصر میں جہاد الکبریٰ نامی کیس میں مبروک کو سات سال قید کیس سزا سنائی گئی تھی۔ رہائی کے بعد وہ افغانستان چلا گیا۔ سنہ 1998ء میں اس نے خود کو مصری حکام کے حوالے کردیا، جہاں ایک فوجی عدالت نے اس کے خلاف مقدمہ چلایا اور اسے 18 اپریل 1999ء کو اسے فوجی عدالت سے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

قاہرہ یونیورسٹی سے زراعت کے شعبے میں گریجویشن کرنے والے ابو فرج المصری ابتداء میں ایک سماجی کارکن کے طور پر مشہور ہوئے۔ مصرمیں سرگرم تنظیم الجہاد کے رہ نما محمد عبدالسلام فرج کے ساتھ بھی اس کے گہرے مراسم رہے۔ یہیں سے اس نے شدت پسندانہ راستہ اختیار کیا۔