.

حزب اللہ امریکا اور روس کی آلہ کار بن چکی : سابق قائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ جنگجو تنظیم حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل صبحی الطفیلی نے ایران کی حمایت یافتہ اس ملیشیا کی شام میں جاری جنگ میں مداخلت اور جارحیت کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ حزب اللہ امریکا اور روس کی آلہ کار بن چکی ہے۔

صبحی الطفیلی کی اسی ہفتے انٹرنیٹ کے ذریعے ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے۔اس میں انھوں نے شام کے شمالی شہر حلب میں لڑنے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ اس جنگ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں۔

انھوں نے کہا: ''اگر آپ میں سے کوئی معزز ہے تو اس کو اپنے کیے پر پچھتانا چاہیے اور وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے۔امریکا اور روس کی خدمات بجا لانے کے لیے ان کے آلہ کار نہ بنو''۔

انھوں نے امریکا اور روس پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے بچوں کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔صبحی طفیلی 1989 سے 1991ء تک حزب اللہ کے پہلے قائد (سیکریٹری جنرل) رہے تھے۔ وہ ایران اور حزب اللہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے سخت ناقد ہیں۔

انھوں نے اس ویڈیو میں کہا:'' آج حلب کو برلن کی طرح تباہ کیا جارہا ہے،لڑاکا طیارے اس کی فضا سے کبھی نہیں ہٹتے ہیں۔اس کے بچوں کو دن اور رات بمباری کا نشانہ بنایا جارہا ہے''۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ امریکا اور روس کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے حلب کے مشرقی حصے پر تباہ کن بمباری کی جارہی ہے اور رو س اور شام کے لڑاکا طیارے باغیوں کے زیر قبضہ اس حصے پر تباہ کن بم اور میزائل پھینک کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔

روس گذشتہ سال ستمبر سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد اعتدال پسند شامی گروپوں کی تو حمایت کررہا ہے لیکن اس کے لڑاکا طیارے شام کے ایک بڑے حصے پر قابض داعش اور ماضی میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔

صبحی الطفیلی نے شام کی اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''جو کوئی بھی ان لوگوں،امریکیوں یا روسیوں، کا اتحادی بنے گا،میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ایک دشمن ہے''۔