.

حلب میں ایک اور روانڈا قبول نہیں کریں گے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے خبردار کیا ہے کہ حلب کا مشرقی حصہ اس سال کے آخر تک مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔انھوں نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ عالمی ادارہ اس شامی شہر کو دوسرا روانڈا اور سربرنیکا نہیں بننے دے گا۔

ڈی مستورا نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر روس اور شام حلب میں لڑائی ختم کرنے کے لیے پیش کش قبول نہیں کرتے ہیں تو تاریخ ان کی جانب سے دہشت گردوں کے استعمال کو شہر کی تباہی کے لیے ایک جواز کے طور پر پیش کرے گی۔عالمی ایلچی کا کہنا تھا کہ حلب میں حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی تعداد زیادہ سے زیادہ آٹھ ہزار ہے۔

یادرہے کہ افریقی ملک روانڈا میں 1994ء میں خانہ جنگی کے دوران مختلف تخمینوں کے مطابق پانچ سے دس لاکھ کے درمیان افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے ایک سال بعد 1995ء میں بوسنیا کی جنگ کے دوران ایک قصبے سربرنیکا میں سربوں نے آٹھ ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے انسانی امور کے مشیر جان ایگلینڈ نے بتایا ہے کہ حلب کے مشرقی حصے میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران فضائی حملوں میں 376 افراد ہلاک اور 1266 زخمی ہوچکے ہیں۔اس کے باوجود شامی حکومت کی جانب سے اکتوبر میں ملک میں کسی بھی جگہ امدادی قافلے بھیجنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔

شام میں روس کے ''قابل اعتبار'' ہتھیار

روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں ''قابل اعتبار'' ہتھیار استعمال کررہا ہے اور گذشتہ ایک سال سے جاری فضائی بمباری کی مہم نے بھی اس اعتباریت کو ثابت کیا ہے۔

انھوں نے ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے جنگ زدہ ملک میں استحکام لانے میں مدد دی ہے اور بین الاقوامی مسلح دہشت گرد گروپوں کے قبضے سے ملک کے ایک نمایاں حصے کو آزاد کرا لیا ہے۔

روسی وزیر دفاع نے کہا کہ ''ہمارے ملک میں تیار کردہ مختلف قسم کے جدید ہتھیاروں کے مشکل صحرائی صورت حال میں تجربات کیے گئے ہیں اور ان سے ان کا قابل اعتبار اور مؤثر ہونا ظاہر ہوا ہے''۔

واضح رہے کہ روس پر شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی گروپوں کے ساتھ ساتھ شہریوں پر تباہ کن ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں اور اس پر جنگی جرائم کے ارتکاب کے بھی الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔ اس نے شام میں اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں اور دوسرے ہتھیاروں کے بھی تجربات کیے ہیں۔ان میزائلوں کو جنگی بحری جہازوں ، آبدوزوں اور لڑاکا طیاروں سے فائر کیا گیا تھا۔

سرگئی شوئیگو کے بہ قول ان ہتھیاروں میں ایکس 101 راکٹ بھی شامل ہیں جو 4500 کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں۔یہ روس میں فوجی اڈوں سے پروازیں کرنے والے بمبار طیاروں کے ذریعے فائر کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ روس کی اسلحے کی صنعت سوویت دور کی بنیادوں ہی پر استوار کی گئی تھی۔اس وقت یہ ملک کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور 2015ء میں روس نے قریباً ساڑھے چودہ ارب ڈالرز کا اسلحہ اور فوجی سازوسامان فروخت کیا تھا۔