.

شام کی سرحدی گزرگاہ پر دھماکا ، جیش حر کے ارکان سمیت 25 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"داعش" تنظیم نے ترکی اور شام کے درمیان سرحدی گزرگاہ اطمة پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ دھماکے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے جن میں اکثریت ترکی کے حمایت یافتہ شامی جیش ِ حُر کے جنگجو ہیں۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق کارروائی میں جیش حر کے 20 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دھماکا حلب شہر کے مغرب میں اطمہ کی گزرگاہ پر شام کی سرحد کے اندر ہوا۔

رصدگاہ نے بتایا شام کے صوبے ادلب کے جنگجو ترکی کے راستے داعش کے خلاف معرکوں کے علاقوں میں پہنچنے کے لیے اطمہ کی گزرگاہ کو استعمال کرتے ہیں۔

مقامی آبادی نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ جنگجو اس گزرگاہ کو زخمی ساتھیوں کو منتقل کرنے کے لیے بھی استعمال میں لاتے ہیں۔

شامی اپوزیشن کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں حلب شہر کی اعلی عدلیہ کونسل کے سربراہ اور ایک جج بھی شامل ہیں۔

ادلب صوبے کو ترکی کی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کا ایک گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ داعش تنظیم اس وقت تمام فریقوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ ان میں شامی حکومت ، مغربی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن اور امریکا کے حمایت یافتہ دیگر جنگجو شامل ہیں۔