.

فوج میں بدعنوانی کے خلاف درجنوں ایرانی افسران کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مسلح افواج کے درجنوں افسران نے ملک کے جنوب مغرب میں دزفول کے فضائی اڈے کے سامنے احتجاج کیا۔ مذکورہ افسران کا احتجاج سرکاری سطح پر بدعنوانی کے خلاف تھا جس کے پاؤں عسکری اداروں تک بھی پہنچ گئے ہیں۔

اصلاح پسندوں کے نزدیک سمجھی جانے والی ویب سائٹ "آمد نیوز" کے مطابق ایرانی فضائیہ کے زیرانتظام "پرواز" ہاؤسنگ سوسائٹی.. عسکری ادارے کے درجنوں اہل کاروں کے خلاف اربوں کی مالیت کے غبن اور جعل سازی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سوسائٹی نے 2013 سے اب تک 22 ارب ایرانی تومان (تقریبا 60 لاکھ ڈالر) وصول کیے اور اس کے عوض فوج کے اہل کاروں کو مکان بنانے کے لیے پلاٹ دینے کے وعدے کیے تاہم آج تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

ویب سائٹ نے متاثرین کے حوالے سے بتایا کہ سوسائٹی نے ہر خاندان سے 3.5 کروڑ ایرانی تومان (تقریبا 10 ہزار ڈالر) وصول کیے۔ تاہم اس کے عوض نہ تو ان کو پلاٹ دیا گیا اور نہ ہی ان کی رقم واپس کی گئی۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ افسران کی جانب سے مرشد اعلی علی خامنہ ای کے دفتر میں شکایات جمع کرانے کے بعد متاثرین کی رقم واپس لوٹانے کے لیے احکامات جاری کیے گئے تاہم ابھی تک کسی کو اس کا حق نہیں مل سکا۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ سوسائٹی نے موصول ہونے والی رقوم کو بڑے اقتصادی منصوبوں میں بطور سرمائے کے لگا دیا ہے اور جب متاثرہ افسران اور ان کے اہل خانہ کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے دزفول کے فضائی اڈے کے سامنے احتجاج کر کے سڑک بند کر دی۔

حالیہ چند ماہ کے دوران سرکاری مال میں بدعنوانی ، رشوت اور لوٹ مار کے خلاف عوامی احتجاجات میں شدت آ گئی ہے۔ اسی طرح سرکاری اور نجی سیکٹر کے ملازمین بھی اپنے خلاف زیادتی کے لیے آواز اٹھانے کے واسطے اکٹھے ہوتے ہیں جن کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

یاد رہے کہ بدعنوانی کی درجہ بندی سے متعلق 175 ممالک کی عالمی فہرست میں ایران کا 136 واں نمبر ہے۔ یہ درجہ بندی غیرسرکاری تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے کی جاتی ہے۔