.

عراق: اہل سنت کی مساجد، امام بارگاہوں میں تبدیل کی جانے لگیں

’معتدل سنی مسلمان داعش اور اہل تشیع کے درمیان کچلے جا رہے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں فرقہ واریت کے عفریت نے اہل سنت مسلک کے مسلمانوں دہری مصائب میں متبلا کیا ہے۔ ایک طرف اسلام کے نام پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کرنے والی دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی ’داعش‘ ہے جس نے اپنے پرائے سب کا جینا دو بھر رکھا ہے اور دوسری طرف ایران نواز شدت پسند شیعہ فرقہ پرستوں نے اہل سنت مسلک سے وابستہ مسلمانوں کے جان ومال، عزت وآبرو اور ان کے مقدس مقامات کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں سرکاری سرپرستی میں شدت پسند شیعہ گروپ اہل سنت مسلک کی مساجد کو امام بارگاہوں میں تبدیل کرنے کی منظم مہم چلا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں اہل سنت مسلک کے ایک سرکردہ عالم دین الشیخ صلاح طہ کا کہنا ہے کہ شمالی بغداد میں سامراء کا سارا علاقہ شیعہ فرقہ پرستوں کے زیر تسلط ہے اور انہوں نے اسلحہ کے زور پر وہاں بسنے والے ہزاروں سنی خاندانوں کو وہاں سے بے دخل کردیا ہے۔

الشیخ طہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں سنی مسلمان اہل تشیع کو ہرقسم کی سہولت مہیا کرتے۔ شہر کے باہر سے مزارات کی زیارت کے لیے آنے والے اہل تشیع کا استقبال کرتے۔ انہیں اپنے ہوٹلوں اور گھروں میں ٹھہراتے۔ ان کے لیے طعام اور قیام کا خاطر خواہ بندوبست کرتے مگر اب سامراء کے علاقے کو دوحصوں میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ ایک حصہ جس میں تمام سنی مسلمانوں کو گھروں سے نکال کر جمع کیا گیا ہے جب کہ سامراء کے باقی ماندہ علاقوں پر شیعہ ملیشیاؤں کا قبضہ ہے جنہوں نے مسلمانوں کی بڑی بڑی جامع مساجد کو امام بارگاہوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2003ء میں عراق پرامریکی فوج کی یلغار اور صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے بعد ملک میں مقیم سنی مسلمانوں کو ایک منظم سازش اور منصوبے کے تحت زیرعتاب لایا گیا۔ صدام کی البعث پارٹی کی تحلیل کی آڑ میں نہ صرف فوج ختم کر دی گئی بلکہ تمام سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو چن چن کر نوکریوں سے نکلا گیا۔ اس انتقامی پالیسی کے نتیجے میں عراق میں رہنے والے لاکھوں سنی مسلمان بے روزگار ہوئے اور غربت کا شکار ہونے کے بعد ان میں سےبعض شدت پسند گروپوں کا چارہ بن گئے۔

عراق کے سنی مسلمانوں کو جبرا گھروں سے نکالا گیا۔ اس وقت اپنے ہی ملک میں عراق کے 25 لاکھ سنی مسلمان مہاجر کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذارنے پرمجبور ہیں اور حکومت ان کی گھروں کو واپسی کا کوئی انتظام کرنے میں کھلم کھلا لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔