.

بین الاقوامی عدالت "مناسب وقت پر "اسرائیلی جرائم کی تحقیقات کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی عدالتِ جرائم کا کہنا ہے کہ عدالت اسرائیلیوں کی جانب سے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے ارتکاب سے متعلق تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے مطلوبہ وقت لے گی۔ یہ تحقیقات اسرائیل اور فلسطینی اراضی میں جاری حالیہ مشن سے علاحدہ خودمختار صورت میں ہوں گی۔

بیت المقدس میں مذکورہ عدالت کے دفتر کے رکن واكيسو موچو شوکو کے مطابق "کسی قسم کی مہلت نہیں ہے۔ تمام شرائط پوری ہونے پر ہم مناسب وقت پر اس معاملے کے حوالے سے سنجیدگی سے کام کریں گے۔ جب ہم تمام جائزے مکمل کر لیں گے تو پھر فیصلہ کیا جائے گا"۔

عدالت کے نمائندے نے فیصلہ کیے جانے سے قبل کئی برس گزر جانے کے امکان پر تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے معاملے سے متعلق معلومات اور اس کے جائزے کے حجم کے پیش نظر اس کو "منفرد" قرار دیا۔ واکیسو کے مطابق "یقینا یہ ان معاملات میں سے ایک ہے جن پر معاونین کی سب سے بڑی تعداد کام کر رہی ہے"۔

بین الاقوامی عدالتِ جرائم جنوری 2015 سے اس بات کے امکان پر غور کر رہی ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری تنازع میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا دروازہ کھولا جائے۔ واضح رہے کہ یہ پہلی مستقل بین الاقوامی عدالت ہے جو جنگی جرائم ، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے خلاف عدالتی کارروائی کرنے کی ذمہ دار ہے۔

فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے جب ک اسرائیلی بین الاقوامی عدالت کی مداخلت کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں اسرائیلی عدلیہ جنگی جرائم سے متعلق مقدمات کے سلسلے میں انصاف کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔