.

بغداد میں تین بم دھماکوں میں 10 افراد ہلاک ،37 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے مختلف حصوں میں تین بم دھماکوں میں دس افراد ہلاک اور سینتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق بغداد کے مشرقی حصے میں ایک بم حملے میں پانچ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوئے ہیں۔داعش نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک خود کش بمبار نے اہل تشیع کو نشانہ بنایا ہے۔

دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں اتوار کے روز دو اور بم دھماکے ہوئے ہیں۔ان میں پانچ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ان دونوں بم دھماکوں کی فوری طور پر داعش یا کسی اور گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

بغداد میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اہل تشیع عاشورہ محرم کے سلسلے میں ماتمی جلوس نکال رہے ہیں یا مجالس برپا کررہے ہیں۔عراقی حکومت نے اس موقع پر بغداد ،نجف اور کربلا میں خاص طور پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ماتمی جلوسوں کے راستوں پر ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

داعش کے جنگجو عراق کے مغربی صوبے الانبار میں عراقی فورسز کے ہاتھوں پے درپے شکست کے بعد سے بغداد اور دوسرے شہروں میں سکیورٹی فورسز اور اہل تشیع کی آبادی والے علاقوں کو اپنے بم حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔عراقی سکیورٹی فورسز داعش کے خلاف ان کے آخری مضبوط گڑھ شمالی شہر موصل کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں۔