.

’ایرانی حکومت کو انقلاب سے نہیں کرپشن سے خطرہ ہے‘

ایرانی سیاست دان کا انسداد بدعنوانی کے لیے اداروں کی تطہیر کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکردہ سیاسی رہ نما اور سابق صدارتی امیدوار نے خبردار کیا ہے کہ بدعنوانی کا ناسور ایران کے برسراقتدار ولایت فقیہ کے نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق ایرانی صدارتی امیدوار احمد توکلی کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام کو کسی بغاوت یا انقلاب سے نہیں بلکہ کرپشن، چور بازاری، لوٹ مار اور رشوت خوری جیسے جرائم سے خطرہ ہے۔ اگر ایران میں ولایت فقیہ کا نظام ختم ہوتا ہے تو وہ کرپشن ہی کا نتیجہ ہو گا کسی انقلاب کا نہیں۔

احمد توکلی جو ماضی میں کئی اہم حکومتی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام اداروں میں کرپشن تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ یہاں تک کہ ایران کے نگراں اداروں اور کمیٹیوں میں بھی کرپشن عام ہے۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے احمد توکلی نے کہا کہ لمحہ موجود میں ایران کو اندر سے خطرہ صرف کرپشن کے ناسور سے ہے، کسی قسم کی بغاوت یا انقلاب ہمارے لیے خطرہ ہرگز نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایران دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں سر فہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق کرپشن میں بدنام 175 ممالک کی فہرست میں ایران کا 136 واں نمبر ہے۔

فیصلہ ساز اداروں میں کرپشن

ایرانی سیاست دان اور سرکردہ نما احمد توکلی نے کہا کہ ریاست کا کوئی ادارہ ایسا نہیں بچا جس میں مالی بدعنوانی کا زہر نہ پھیل چکا ہو۔ حتیٰ کہ ملک کے نگراں ادارے اور فیصلہ ساز مراکز میں بھی کرپشن تیزی کے ساتھ سرایت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ایک منظم عمل ہے جس میں ریاست کے اعلیٰٗ ترین نگراں ادارے بھی ملوث ہیں۔ انہوں ے کہا کہ بدعنوانی سے بڑھ کر کسی بھی ملک کی تباہی کے لیے اور کوئی بڑی وجہ نہیں ہوسکتی۔ بد عنوانی معیشت کو تباہ، سرمایہ کو موخر اور پیداوار کو روک دیتی ہے۔ بے روزگاری عام اور غربت کا دور دورہ ہوتا اور معاشرے کے افراد کے درمیان معاشی عدم توازن پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کے اخلاق بھی بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح پورا ملک اور نظام مملکت تباہ ہو جاتے ہیں۔

احمد توکلی کا کہنا تھا کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ان تمام اداروں کی تطہیر کی ضرورت ہے جو فیصلہ سازی کے مراکز ہیں۔ جب تک ان بڑے بڑے اداروں سے کرپشن ختم نہیں ہوگی اس وقت تک ملک معاشی طور پرمضبوط نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بعض سرکاری ملازمین کی بھاری بھرکم تنخواہوں کو بھی کرپشن ہی کی ایک شکل قرار دیا۔