.

ایران بحیرہ روم تک محفوظ گذرگاہ کے لیے کوشاں : یورپی ذمہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومت کی جانب سے ایرانی ملیشیاؤں کو موصل کے معرکے سے باہر رکھنے کی یقین دہانیاں اچھے ارادوں سے نہیں تھیں۔ اب ایسا نظر آرہا ہے کہ بغداد ایک متبادل منصوبے پر کام کررہا ہے جو ایران کو موصل کے گرد رہ کر اور اس کو شام سے مربوط کرنے کے راستے شہر پر کنٹرول رکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

یہ منظر نامہ ایک وسیع تر ایرانی منصوبے کا حصہ ہے جس کا انکشاف ایک یورپی ذمہ دار نے برطانوی اخبار آبزرور کو کیا۔ ذمہ دار کے مطابق علاقے میں ایران کی عسکری کارروائیاں عراقی ذمہ داران اور شامی حکومت کے ساتھ کوآرڈی نیشن سے کئی برسوں سے جاری ہیں۔

یورپی ذمہ دار کے مطابق ایران کئی برس سے بحیرہ روم تک گذرگاہ بنانے پر کام کر رہا ہے جو عراقی اور شامی اراضی کے ذریعے وہاں تک پہنچے۔ اس کا مقصد ایرانی دارالحکومت کو ایسے بحری دروازے سے جوڑنا ہے جو بحیرہ ابیض تک پھیلا ہوا ہو اور اس کے ذریعے تہران اور یورپ کے درمیان رکاوٹیں ختم ہوجائیں۔

اسی سلسلے میں ایرانی ملیشیاؤں نے عراق کے وسط اور مشرق میں سنی عربوں کے متعدد علاقوں پر اپنا کنٹرول پھیلا دیا۔ اس اقدام کے لیے "داعش" تنظیم کے خلاف لڑائی کو حجت بنایا گیا۔ یورپی ذمہ دار کے مطابق اس طرح ایران کے سامنے سے بحیرہ روم تک گذرگاہ بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹ گئیں جو کہ عراق کے صوبے دیالی سے شروع ہوگی۔ اس کے بعد یہ صلاح الدین صوبے سے گزر کر موصل پہنچے گی۔

یورپی ذمہ دار نے باور کرایا کہ عراقی حکومت اور پاپولر موبیلائزیشن کی ملیشیاؤں کے پاس موصل کے مغرب میں فرقہ وارانہ عناصر کو متعین کرنے کے منصوبے موجود ہیں جس کے لیے بظاہر "داعش" کے ارکان کو شام کی جانب فرار سے روکنے کا نام لیا جائے گا۔ تاہم عملی طور پر شام کے ساتھ سرحدی علاقوں میں ایرانی گذرگاہ کو محفوظ بنایا جائے گا۔

بحیرہ روم کی جانب ایرانی گذرگاہ موصل شہر سے اپنا راستہ شامی حکومت اور کردوں کے ساتھ معاہدے کے بعد الحسکہ ، الرقہ اور حلب کے ذریعے مکمل کرے گی۔ یورپی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ حلب سے یہ ایرانی گذرگاہ ساحلی شہر اللاذقیہ کے راستے طرطوس کی جانب جائے گی۔

اس طرح ایران عراقی اور شامی حکومت کی مدد سے ایک محفوظ گذرگاہ کو یقینی بنا سکتی ہے جو اس کے لیے بحیرہ روم کے راستے سامان اور اسلحے کی منتقلی کو آسان بنا دے گی۔