جیش الحر کو میزائل دفاعی نظام نہیں ملا: شامی حزبِ اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شامی حزبِ اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ جیش الحر کے یونٹوں کو فضائی دفاعی میزائل مل گئے ہیں۔

اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ریاض نعسان آغا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی حزبِ اختلاف کے کسی گروپ کو فضائی دفاعی نظام یا ٹیکنالوجی موصول نہیں ہوئی ہے۔

ان سے قبل سوموار کو حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ڈاکٹر سالم المسلط نے بھی سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جیش الحر کو ایسے میزائل اور اسلحہ ملنے کی تردید کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ''اگر ہمیں کوئی میزائل دفاعی نظام ملا ہوتا تو ہم اس صورت حال سے دوچار نہ ہوتے جس کا آج ہمیں سامنا ہے''۔

مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے سینیر فیلو اور مشرق وسطیٰ میں مزاحمت کاری کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار چارلس لیسٹر نے 8 اکتوبر کو دو ٹویٹس میں اطلاع دی تھی کہ جیش الحر کے منتخبہ یونٹوں کو فیلڈ آرٹلری سسٹمز اور ہتھیار مل گئے ہیں۔ان کے لیے ٹینک شکن میزائل ٹو اور گراڈ راکٹ بھی بھیجے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حزبِ اختلاف صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسر پیکار مسلح گروپوں کو گذشتہ پانچ سال سے میزائل دفاعی نظام مہیا کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں