حوثیوں کے راکٹ بحری تجارتی قافلوں کے لیے خطرہ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کےحوثی باغیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ایک بحری جہاز اور امریکی بحری بیڑے پر راکٹ حملوں کے بعد بحری تجارتی قافلوں کے انشورینس سیکٹر نے خبردار کیا ہے کہ یمنی باغی تجارتی قافلوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس آبی تجارتی قافلوں اور بحری جہازوں کی انشورینس کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ یمنی حوثی باغیوں کے راکٹ مال بردار اور تیل بردار بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں کیونکہ یمن کے ساحل کے قریب بحری تجارتی قافلوں کا بہت رش رہتا ہے۔ یمنی باغیوں کی طرف سے راکٹ حملے نہ صرف تیل لے جانے والے جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ دیگر تجارتی سامان کی منتقلی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں۔

اگرچہ حوثی باغیوں کے راکٹ حملوں کے خطرات موجود ہیں مگر بحری تجارتی کمپنیوں نے اپنا روٹ تبدیل نہیں کیا ہے۔ یمن کے ساحل سے گذرنے والی آبی ٹریفک کو باغیوں کے راکٹوں سے خطرات کا پہلے بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ یمن کے تجارتی بحری روٹ کو بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں میں بحری جہازوں کے کینٹنروں کی کمپنی میرسک، ناروے کی تیل لے جانے والے جہازوں کی بڑی فرم ’فرنٹ لائن‘ یمنی تجارتی راستے کو استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایرانی بحری جہاز بھی اسی راستے سے گذر رہے ہیں۔

بحری جہازوں کی انشورینس کرنے والی کمپنیوں کے ایک ذمہ دار ذریعے کا کہنا ہے کہ یمنی کی بعض بندرگاہوں کی طرف آنے والے کئی بحری جہازوں کی انتظامیہ نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کردیا ہےتاکہ یمن میں جاری کشیدگی کے دوران انٹرنیٹ کی مدد سے جہازوں کی نقل وحرکت کی نشاندہی نہ کی جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے اندر جاری شورش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کے باعث یمن کی الحدیدہ جیسی اہم بندرگاہ پرآنے والے جہازوں کی انشورینس ریٹس ہزاروں ڈالر کے حساب سے بڑھا دیے ہیں۔

خیال رہے کہ تجارتی انشورینس کمپنیوں کی طرف سے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ دوسری جانب یمنی باغیوں نے دو روز قبل ہی ایک امریکی بحری بیڑے پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ مگر اس حملے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں