.

مصر اور سعودی عرب شام اور یمن کے تنازعات پر بات چیت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد آیندہ چند روزہ میں سعودی دارالحکومت الریاض کا دورہ کرے گا اور سعودی حکام سے لیبیا،عراق، یمن اور شام میں جاری تنازعات سمیت علاقائی امور پر تبادلہ خیال کرے گا۔

وفد میں اعلیٰ مصری عہدے دار شامل ہوں گے۔وہ سعودی عہدے داروں کے ساتھ شام کے بارے میں ایک مجوزہ قرار داد پر بھی بات چیت کریں گے۔ یہ قرارداد آیندہ چند روز میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جائے گی۔

اس دورے کی تیاریوں کے سلسلے میں مصر میں متعیّن سعودی سفیر احمد القطان قاہرہ سے بدھ کو الریاض کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔مصری وفد یہ دورہ ایسے وقت میں کررہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان شام کے بارے میں ایک قرار داد پر ووٹنگ کے معاملے پر کشیدگی پائی جارہی ہے۔

مصر نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی شام سے متعلق پیش کردہ اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ سعودی عرب نے اس مخالفت کی تھی۔

اس قرار داد پر رائے شماری کے بعد سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو نے اس ماہ کے لیے مصر کو سات لاکھ ٹن پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات روکنے کا اعلان کردیا تھا۔ آرامکو کے اس فیصلے کے بعد مصر کو اپنی پیٹرولیم مصنوعات کو پورا کرنے کے لیے عجلت میں ٹینڈرز جاری کرنا پڑے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ کشیدگی خطے میں جاری تنازعات کے بارے میں عدم سمجھوتے کا نتیجہ ہے حالانکہ سعودی عرب مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ابتدا ہی سے حمایت کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو ہٹانے اور اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن کی بھی حمایت کی تھی۔

اس کے علاوہ یمن اور شام میں جاری تنازعات کے حوالے سے دونوں ملکوں میں تناؤ پایاجاتا ہے۔ایران کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر بھی ان میں اختلافات پائے جاتے ہیں کیونکہ مصر مبینہ طور پر ایران کو خطے کی سیاست میں اس طرح کا خطرہ خیال نہیں کرتا ہے جیسا سعودی عرب اس کو خطرہ سمجھتا ہے۔