.

ایردوآن اور پوتن.. عداوت ہنسی اور مصافحے میں کیسی بدلی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور روس کے درمیان کئی ماہ تک تعلقات کی کشیدگی اور الفاظوں کی جنگ کے بعد ایردوآن اور پوتن کے نام ان دونوں سب سے زیادہ گردش میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر اس وقت پہنچا جب ترکی نے روس کا ایک سوخوی طیارہ مار گرایا جس کے بارے میں ترکی کا دعوی تھا کہ وہ اس کی فضاؤں میں محو پرواز تھا۔ تقریبا دس برس تک بہترین تعلقات جن کو "ہنی مون" کا نام دیا جاسکتا ہے، اس کے بعد 2015 کے اواخر میں روس اور ترکی کے درمیان بحران نے ڈرامائی صورت اختیار کر لی۔

ایردوآن اور پوتن دونوں کو تنک مزاج صدر قرار دیا جاتا ہے۔ دونوں کی شخصیت میں سب سے پہلی مشترکہ صفت مزاج کی گرمی اور نخوت ہے جو بعض مرتبہ شعلہ بیانی کا سبب بنتی ہے۔

بحران کی ابتدا

ترکی نے 24 نومبر 2015 کو شام کی سرحد کے نزدیک روس کا ایک سوخوی 24 لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔ یہ واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان بحران کے آغاز کے لیے شرارہ ثابت ہوا۔ اس سے قبل 3 اکتوبر 2015 کو ترکی کی وزارت خارجہ نے روسی طیارے کی جانب سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا اعلان کیا تھا اور روسی سفیر کو خبردار کر دیا تھا کہ مستبقل میں کسی بھی واقعے کا ذمے دار روس ہوگا۔

یہ کہنے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ شام کا بحران دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کا بنیادی نقطہ ہے۔ شام میں انقلابی تحریک کا آغاز تقریبا 6 برس قبل ہوا اور 2011 سے شام میں ترکی اور روس کی مکمل طور پر علاحدہ مواقف کے ساتھ مداخلت ظاہر ہوئی۔ ترکی شام کے انقلابی عوام کے ساتھ کھڑا ہوگیا جب کہ روس نے شامیوں کے انقلاب کو مسترد کردینے والی اس شامی حکومت کا ساتھ دیا جس نے انقلابی تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی پہلے دن سے طاقت کا استعمال کیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اگرچہ دنوں کے مواقف کے درمیان ایک بڑا خلاء موجود ہے تاہم دنوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات پر کوئی اثر نہ ہوا اور 2015 کے اختتام تک ان میں بڑی حد تک بہتری آ گئی تھی۔

سلام اور مصافحہ

رواں سال جون میں حیرت انگیز طور پر دونوں ملکوں کے خطاب کے لہجے میں تبدیلی آئی اور تعلقات کے دوبارہ سے معمول پر آنے کے آثار نظر آنے شروع ہو گئے۔ ترکی روس کا طیارہ مار گرانے پر معذرت کے لیے آمادہ ہو گیا۔ روس نے اس معذرت کو قبول کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے "انتہائی اہم قدم" قرار دیا۔ پوتن کے ترجمان نے بتایا کہ روسی صدر اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ٹیلیفونک بات چیت کریں گے۔

مزاح اور ہنسی

استنبول میں پیر کے روز منعقد ہونے والے توانائی سے متعلق سربراہ اجلاس میں صحافیوں کے کیمروں نے ترکی اور روسی دونوں صدور کا پیچھا کیا۔ ایردوآن نے پوتن کا استقبال مسکراتے چہرے اور واضح خیرمقدم کے ساتھ کیا۔ گرم جوش استقبال کے بعد دونوں صدور سربراہ اجلاس میں ایک دوسرے کے برابر براجمان ہوئے۔

ترک صدر نے جلد ہی یہ اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ شام کے تنازع پر بات چیت کی ہے۔ اس میں وہاں پر ترکی کی فوجی کارروائیاں (فرات کی ڈھال آپریشن) اور حلب میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے تعاون کی ضرورت شامل ہیں۔

سربراہ اجلاس پر اقتصادی پہلو غالب رہا۔ اس دوران روسی گیس کو بحیرہ اسود کے راستے یورپ منتقل کرنے کے لیے ایک پائپ لائن منصوبے " ترک اسٹریم" پر دستخط کیے گئے۔ روسی صدر پوتن نے بھی " ترک شراکت داروں" کے لیے روسی منڈیاں کھولنے اور " ترکی کی زراعتی مصنوعات کی درآمد پر عائد پابندی اٹھانے" کا اعلان کیا۔

حلب موجود بھی اور غائب بھی

چند روز قبل روس نے شام کے شہر حلب میں فائر بندی سے متعلق فرانس اور اسپین کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کو ویٹو کا اختیار استعمال کرتے ہوئے سبوتاژ کر دیا تھا۔ شامی حکومت اور روسی طیاروں کی مسلسل اور شدید بم باری نے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کرنے کے علاوہ تاریخی شہر کو کھنڈروں کی تصویر بنا دیا ہے۔

حالیہ ویٹو شامی انقلاب کے آغاز کے بعد سے روس کی جانب سے اس اختیار کا پانچواں استعمال ہے۔ ان تمام کا مقصد شام میں عوام کے خلاف بشار حکومت کے کریک ڈاؤن کو روکنے کے لیے عالمی برادری کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔ فرانس ، اسپین اور برطانیہ سمیت کئی عالمی طاقتوں نے اس اقدام پر روس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

شام سے متعلق موقف اور حلب میں جاری قتل عام کے حوالے سے دونوں صدور کے درمیان شدید اختلاف کے باوجود استنبول کے سربراہ اجلاس میں ایردوآن اور پوتن کے بیانات میں ہم آہنگی نظر آئی۔ پوتن کے مطابق ترکی اور روس شام میں "خون بہائے جانے کو" روکنے پر متفق ہیں۔

دونوں آہنی رہ نما

آج ہم روسی طیارہ گرائے جانے پر ترکی کی معذرت کی بات کریں تو یہ بات بھی مدنظر رہے کہ مذکورہ معذرت آسانی سے سامنے نہیں آئی جیسا کہ نظر آتا ہے۔ معذرت سے قبل ایردوآن صاف اور واضح طور پر کہہ چکے تھے کہ "ہم گر گز معذرت نہیں کریں گے"۔

پوتن نے ایردوآن پر متعدد الزامات عائد کیے تھے جن میں ترکی کے داعش سے تیل خریدنے کا الزام بھی شامل ہے۔ لہجے اور فیصلہ کن انداز نے مبصرین کو یہ سمجھنے پر مجبور کردیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہموار اور پرامن تعلقات کی واپسی نہ ہو سکے۔

مبصرین کے مطابق صدر ایردوآن کا "حساب کتاب اچھا ہے"۔ انہوں نے "معافی میں کوئی مسئلہ نہیں" کے اصول کو اپنایا تاکہ تعلقات اور اقتصادی و سیاسی مفادات کی واپسی ہو سکے۔

برطانوی اخبار انڈییپنڈنٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں روبرٹ فیسک نے اگست میں ایردوآن کے دورہ ماسکو کو ایک نئی نوعیت کا انقلاب قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری سے ممکنہ طور پر نقصان اٹھانے والوں کی ایک لمبی فہرست تیار ہوجائے گی۔

بعض دوسرے تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ پوتن اور ایردوآن کا ایک دوسرے سے مصافحہ قبول کر لینا مال اور منڈی کی طاقت کا واضح ثبوت ہے۔

کیا اعداد و شمار نے دونوں ضدی صدور کے درمیان برف پگھلا دی ؟

روس 2005 سے اب تک جرمنی کے بعد ترکی کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سال 2014 میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 31 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ یہ ترکی کے بیرونی تجارتی تبادلے کے مجموعی حجم کا 8% اور روس کے بیرونی تجارتی تبادلے کے مجموعی حجم کا تقریبا 4% تھا۔ اس کے علاوہ ترکی بنیادی طور پر روس سے پائپ لائنوں کے ذریعے درآمد کی جانے والی گیس پر بھروسہ کرتا ہے۔ ترکی میں استعمال ہونے والی مجموعی گیس میں 56% حصہ روسی گیس کا ہے۔ ترکی میں استعمال ہونے والی مجموعی بجلی میں سے 44% بجلی درحقیقت گیس سے تیار کی جاتی ہے۔ جرمنی کے بعد ترکی روس کی قدرتی گیس کو درآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ روس کی جانب سے برآمد کی گئی مجموعی گیس میں سے 14% ترکی کو جاتی ہے۔

سیاحت کے شعبے کو دیکھا جائے تو 2014 میں ترکی میں غیرملکی سیاحوں کی تعداد تقریبا 3.6 کروڑ رہی جن میں 34 لاکھ روسی سیاح تھے۔

سابقہ اعداد و شمار سے اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ " ترکی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک سال یا چند سالوں کے دوران روس کی قدرتی گیس سے بے نیاز ہو سکے۔ اس کے سامنے روس ، آذربائیجان ، ایران اور عراق سے پائپ لائنوں کے ذریعے گیس درآمد کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔