یمن : حوثیوں کے ریڈار ٹھکانوں پر امریکی فوج کے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزارت دفاع "پینٹاگون" کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے یمن میں حوثیوں کے ریڈاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی امریکی بحریہ کے میزائل شکن جہاز پر ناکام حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔

"پینٹاگون" نے ابتدائی رپورٹوں کے حوالے سے 3 ریڈار ٹھکانوں کے تباہ ہونے کی خبر دی ہے اور کہا ہے کہ حملوں کا مقصد امریکی فوج کے اہل کاروں ، بحری جہازوں اور جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ تک محدود ہے۔

امریکی صدر باراک اوبما کی اجازت سے کیا جانے والا تازہ ترین حملہ پہلی براہ راست عسکری کارروائی ہے جو واشنگٹن نے حوثیوں کے زیر کنٹرول اہداف کے خلاف کی ہے۔

بدھ کے روز امریکی بحریہ کے میزائل شکن بحری جہاز "يو ایس ایس میسن" کو یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ اراضی سے ناکام میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ چار روز کے اندر اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔

"پینٹاگون" کے ترجمان پیٹر کک کے مطابق میزائل شکن جہاز "یو ایس ایس میسن" نے کم از کم ایک میزائل کو نظر میں لے لیا تھا جو یمن میں الحدیدہ کے قریب حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے داغا گیا تھا تاہم امریکی جہاز تک نہیں پہنچ سکا۔

یہ حملہ اتوار کے روز کیے جانے والے ایک دوسرے حملے کے تین روز بعد ہوا ہے۔ متعدد امریکی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں ایران کی حلیف حوثی ملیشیائیں ملوث ہیں۔

سعودی عرب نے یمنی ساحل کے مقابل بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے جہاز پر حملے کی سخت مذمت کی۔ ذرائع نے واضح کیا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جانب سے یہ حملہ ایک دہشت گرد کارروائی ہے جس سے بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرہ کا سامنا ہے۔

علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات نے بھی حوثی اور معزول علی صالح کی ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی بحری جہاز پر حملے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کی اماراتی وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ حملہ اس امر کو باور کراتا ہے کہ مذکورہ ملیشائیں یمنی بحران کے سیاسی حل سے جان چھڑانے کے لیے راہ فرار کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہیں اور یمنی عوام کی مشقت کا باعث باغیوں کی ذہنیت ابھی تک ان ملیشیاؤں کی کارروائیوں پر مسلط ہے"۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے حوثیوں کی جانب سے اماراتی امدادی سامان کے بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد.. امریکا نے بحیرہ احمر کے جنوب میں اپنے فوجی وجود کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ واشنگٹن نے اس واقعے کو دہشت گرد کارروائی قرار دیا تھا۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں