.

مصر کے سعودی عرب سے ''ٹھوس اور اچھے'' تعلقات استوار ہیں: وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیراعظم شریف اسماعیل نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے سعودی عرب کے ساتھ ''اچھے اور ٹھوس'' تعلقات استوار ہیں۔

انھوں نے مصری روزنامے الاہرام میں شائع شدہ ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال معمول کے مطابق جاری ہے اور یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے حق میں ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کو مصر کو تیل کی ماہانہ ترسیل کے معاملے میں مختلف فنی ایشوز درپیش تھے اور اس نے ان پر مصر کی تیل کی وزارت سے بات چیت کی تھی۔انھوں نے مزید کہا کہ آرامکو کے ساتھ تیل کی ڈیل پر یہ ایشوز اثرانداز نہیں ہوں گے۔

انھوں نے یہ بیان مصر اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہونے والے حالیہ تناؤ کے تناظر میں جاری کیا ہے۔دونوں ملکوں میں یہ کشیدگی مصر کی جانب سے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی شام سے متعلق پیش کردہ قرار داد کے حق میں ووٹ سے پیدا ہوئی ہے۔

سلامتی کونسل میں سعودی عرب کی مخالفت میں اس ووٹ کے بعد قاہرہ میں متعیّن سعودی سفیر مشاورت کے لیے الریاض چلے گئے تھے جبکہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے مصر کو اکتوبر کے لیے پیٹرولیم کی مصفیٰ مصنوعات برآمد بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر روک لی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب شام میں جاری تنازعے کے حوالے سے روس سے بالکل مختلف بلکہ متضاد مؤقف کا حامل ہے۔روس شامی صدر بشارالاسد کا اقتدار بچانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ شامی صدر کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجو گروپوں پر تباہ کن فضائی حملے کررہا ہے جبکہ سعودی عرب اسد حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے اور وہ شامی حکومت سے لڑنے والے باغی گروپوں اور حزب اختلاف کا حامی ومؤید ہے۔

ماضی قریب میں سعودی عرب نے مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی حمایت کی تھی۔اس کے بعد سے وہ صدر عبدالفتاح السیسی کی بھرپور حمایت کرتا چلا آ رہا ہے اور اس نے مصر کو اربوں ڈالرز نقد رقوم اور مفت یا ارزاں نرخوں پر تیل کی برآمدات کی مد میں بھرپور امداد دی ہے۔