.

شامی باغیوں کا داعش کے مضبوط گڑھ دابق پر قبضہ

روسی اور شامی طیاروں کی حلب کے مشرقی حصے پر تباہ کن بمباری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے شام کے شمالی قصبے دابق پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجو لڑائی میں شکست کے بعد پسپا ہوگئے ہیں۔

صوبہ حلب میں واقع دابق داعش کا ایک مضبوط گڑھ تھا اور اس قصبے میں لڑائی میں شکست ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی۔اس قصبے کی تزویراتی لحاظ سے تو کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔البتہ ایک مذہبی روایت کے مطابق اس کی ایک نظریاتی اہمیت ہے اور یہاں عیسائی فوجوں اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ ہوگی۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق ،ترکی کے سرکاری میڈیا اور باغیوں کے ایک دھڑے نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ حزب اختلاف کی فورسز نے ترکی کے لڑاکا طیاروں اور توپ خانے کی داعش کے جنگجوؤں پر بمباری کے بعد اس قصبے پر قبضہ کیا ہے اور داعش کے زندہ بچ جانے والے جنگجو وہاں سے راہ فرار اختیار کر گئے ہیں۔

ترکی کے حمایت یافتہ ایک باغی دھڑے فاستقیم یونین نے بتایا ہے کہ داعش سے شدید لڑائی کے بعد دابق پر قبضہ کیا گیا ہے۔رصدگاہ کا کہنا ہے کہ باغیوں نے نزدیک واقع ایک اور قصبے سوران پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کی اطلاع کے مطابق ہفتے کے روز لڑائی میں نو باغی ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوگئے تھے۔ داعش کے جنگجو قصبے سے پسپا ہوتے ہوئے بارودی سرنگیں بچھا گئے ہیں اور اب باغی ان کو صاف کررہے ہیں۔

اس فتح کے بعد ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کا اب صوبہ حلب کی سرحد پر 1130 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ حلب گورنری کے مختلف حصوں پر جہادیوں ،کردوں ،باغیوں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کا قبضہ ہے۔

صوبائی دارالحکومت حلب میں اسدی فوج نے روس کی فضائی مدد سے باغیوں پر ایک خونریز جنگ مسلط کررکھی ہے۔شامی اور روسی طیارے حلب کے مشرقی حصے پر تباہ کن بمباری کررہے ہیں۔اتوار کو حلب کے شمالی ،جنوبی اور وسطی حصوں سے شامی فوج اور باغیوں کے درمیان خونریز لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

حلب میں موجود فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ نصف شب کے بعد سے باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی حصے پر بلا تعطل فضائی حملے جاری ہیں۔

درایں اثناء آج لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے یورپی اتحادیوں کےساتھ ایک اجلاس منعقد کررہے ہیں اور وہ ان سے شام میں جنگ بندی اور اس تنازعے کے حل کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔جان کیری نے گذشتہ روز سوئس شہر لوزان میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور خطے کے سات ملکوں کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کی تھی لیکن اس میں شام میں جنگ بندی کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔