.

یمن کے ساحل کے مقابل امریکی بحری جہازوں پر نیا میزائل حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع کے ایک ذمہ دار نے بتایا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول اراضی سے بحیرہ احمر میں امریکی بحری جنگی جہاز میسن کی جانب متعدد میزائل داغے گئے ہیں۔ ذمہ دار کے مطابق امریکی جہاز نے بر وقت مخالف اقدامات کیے اور جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

یہ تیسری مرتبہ ہے کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے میزائلوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں امریکی میزائل شکن بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی دفاعی ذمہ دار کے مطابق بحری جہاز "يو ایس ایس میسن" بحیرہ احمر میں دو دیگر جہازوں "یو ایس ایس بونس" اور " يو ایس ایس نیٹز" کے ساتھ گشت پر تھا کہ اس دوران اس کی جانب متعدد میزائل داغے گئے۔

پینٹاگون نے واضح کیا تھا کہ اپنے دفاع اور امریکی فوجی اہل کاروں ، بحری جہازوں اور جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے محدود پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کا عندیہ بھی دیا گیا کہ امریکی بحریہ کے جہازوں اور تجارتی جہاز رانی کی نقل و حرکت کے لیے کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ملیشیاؤں کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں ایک اماراتی شہری بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس سے قبل پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے یمن میں حوثیوں کے ریڈار ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جس کا مقصد ایرانی نواز ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی بحری جہاز پر ناکام میزائل حملوں کا جواب دینا تھا۔

اس دوران معروف امریکی ریپبلکن سینیٹر جان مک کین نے اپنے اس غالب گمان کا اظہار کیا کہ خلیج عدن میں امریکی میزائل شکن بحری جہاز پر حوثیوں نے جو میزائل داغے وہ ایران کی جانب سے بھیجے گئے ہیں۔