.

کتے کے کاٹے کے 7000 واقعات ۔۔۔ شامی حکومت میں افراتفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کی وزارت صحت نے کتے کے کاٹے کی ویکسین کی عدم دستیابی کا اعتراف کرتے ہوئے ملک میں تیزی سے پھیلتی اس بیماری سے خبردار کیا ہے۔ تاہم اس مظہر کے پھیلنے کے پیچھے چھپی حقیقی وجوہات کی وضاحت نہیں کی گئی جو بشار کی فوج کے بعد شامی عوام کی زندگیوں کو ختم کرنے کا نیا ذریعہ بن رہا ہے۔

شامی حکومت کے ایک اخبار "البعث" کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے ملک میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کا اعتراف "یک دم اور حیران کن" ہے جو ایک آوارہ جانور کے فعل سے متاثرہ افراد کے اندر وسیع پیمانے پر اندیشوں کا دروازہ کھول دے گا۔

وزارت صحت کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کتے کے کاٹے کی تقریبا سات ہزار حالتیں سامنے آئیں۔ ان میں دو افراد علاج میں تاخیر کی وجہ سے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وزارت نے تصدیق کی ہے کہ کتے کے کاٹے کی خصوصی ویکسین کئی ماہ سے عدم دستیاب نہیں ہے۔

شامی وزارت صحت نے دعوی کیا ہے کہ کتے کے کاٹے کی ایک ویکسین کی قیمت 70 ہزار شامی لیرہ (تقریبا 100 امریکی ڈالر) ہے۔ متاثرہ افراد علاج کی خاطر لبنان کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ادھر گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران شامی صدر بشار الاسد کی ہمنوا بعض ویب سائٹوں نے اس طرح کی خبر نشر کی ہے جس کے مطابق بشار فوج کے بعض افسران نے لڑائی کے محاذوں پر فوجیوں کے درمیان بطور "انعام" رقوم تقسیم کرتے ہوئے فی کس لاکھوں شامی لیرہ سے نوازا ہے۔ اس سے ایک مرتبہ پھر واضح ہو جاتا ہے کہ شامی حکومت کا علاج کے اخراجات نہ ہونے کے حوالے سے رونا محض ڈھکوسلے بازی کے سوا کچھ نہیں۔

وزارت صحت کا دعوی ہے کہ کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کا سبب "درآمد کرنے پر عدم قدرت" ہے۔ دوسری جانب اسی دوران حکومتی ادارے مختلف نوعیت کی جدید ترین الیکٹرک اور میکینیکل مصنوعات درآمد کر رہے ہیں۔

شامی حکومت کے حامیوں کے زیر انتظام ویب سائٹوں اور صفحات نے گزشتہ دو روز کے دوران بشار کی فوج کے اہل کاروں کی تصاویر جاری کی تھیں جن میں وہ لڑائی کے بالخصوص "حماہ" صوبے میں محاذوں پر نقدی گنتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حکومت کی فوج کے بھاری جانی نقصان کے بعد عسکری ادارے معاوضے کے عوض غیرملکی جنگجوؤں کی خدمات لینے مجبور ہو گئے۔ لڑائی کے محاذوں پر بھیجا جانے والا "انعام" در حقیقت ان فوجیوں کو لڑائی جاری رکھنے پر آمادہ رکھنے کے لیے ہے۔ ان میں عراق ، ایران اور لبنان سے فرقہ واریت کی بنیاد پر آ کر بشار حکومت کے واسطے شامیوں کو قتل کرنے والے عناصر بھی شامل ہیں۔