.

مقتدیٰ الصدر کا ترکی کے خلاف مظاہروں کا اعلان

موصل جنگ میں شہریوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا جائے:الجبوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سخت گیر شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر نے ایک ٹی وی بیان میں ترکی کی عراق میں مداخلت کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے بغداد میں ترک سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک مقامی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں مقتدیٰ الصدر کا کہنا تھا کہ عراق میں ترک فوج کی مداخلت جارحیت ہے جسے کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں الصدر نے موصل میں داعش کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کی تاہم انہوں نےفوج اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا کہ وہ آپریشن کے دوران شہریوں کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موصل میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ فرقہ وارانہ لڑائی کی شکل اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو ایک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ موصل جنگ پوری قوم کو متحد کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔

درایں اثناء عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موصل کی لڑائی ایک امتحان ہے۔ اس دوران بے گناہ شہریوں کے تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کو محفوظ بنانے کی اشدت ضرورت ہے۔ انہوں نے جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کومحفوظ ٹھکانے فراہم کرنے اقدامات حکومت کی ذمہ داری ہے۔ داعش کی شر کے خاتمے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔