.

یمن میں جنگ بندی.. ابتدائی گھنٹوں میں ملیشیاؤں کی خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی ملیشیاؤں نے تعز شہر کے اکثر محاذوں پر نافذ العمل ہونے والی جنگ بندی کے آغاز کے چند منٹوں بعد ہی اس کی خلاف ورزی شروع کر دی۔ اس جنگ بندی کا اعلان بدھ کی شب کیا گیا تھا۔

حوثی اور صالح ملیشیاؤں نے تعز شہر کے مشرقی ، شمالی اور مغربی محاذوں پر سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کے ساتھ نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

فوجی ذرائع کے مطابق ملیشیاؤں نے جنگ بندی کے شروع ہوتے ہی ابتدائی لمحات سے ہی مختلف علاقوں میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر طیارہ شکن راکٹوں کے ذریعے اندھا دھند حملے شروع کر دیے۔ ان علاقوں میں حسنات ، الجحمیلہ ، الدعوہ ، الزہراء، عصیفرہ ، الزنوج اور جبل ہان کے علاقے شامل ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ الدعوہ کے علاقے میں باغی عناصر کی دراندازی کی کوشش پر شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کار تعز شہر کے مشرقی علاقے الدعوہ میں باغی ملیشیاؤں کی دراندازی کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دوسری جانب باغی ملیشیاؤں نے مارب کے مغرب میں صراوح کے محاذ پر سرکاری فوج کے ٹھکانوں کو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں صنعاء کے مشرق میں نہم کے علاقے میں بھی سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی گئی۔

جنگ بندی کے آغاز کا اعلان

اس سے قبل عرب اتحادی افواج کی قیادت نے یمن میں بدھ کی شب 11:59 منٹ پر جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق اتحادی قیادت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ فائربندی کی پاسداری کریں گے تاہم اس دوران فضائی اور بحری ذرائع سے باغیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی جاری رہے گی۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شاہ سلمان نے یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کی جانب سے یمن میں فائربندی کی درخواست کا مثبت جواب دیا۔ جنگ بندی کا مقصد برادر یمنی عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد اور مقدار میں انسانی اور طبی امداد پہنچانا ہے۔

"العربیہ" نیوز چینل سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر دفاع کے مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے باور کرایا کہ "جنگ بندی کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کو پوری طاقت سے روکا جائے گا "۔