.

بشارالاسد کی رخصتی کا سوچنا بھی محال ہے: روس

شام کے تمام علاقوں کو باغی گروپوں سے آزاد کرایا جانا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین کے ترجمان نے شامی صدر بشارالاسد کی رخصتی کے مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ اس کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شام کے تمام علاقے کو آزاد کرایا جانا چاہیے۔

دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بشارالاسد کو برسراقتدار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو جنگجوؤں کے ہاتھ لگنے سے بچایا جاسکے''۔

انھوں نے کہا:''اس وقت دو ہی آپشنز ہیں،بشارالاسد دمشق میں بیٹھے رہیں یا پھر النصرۃ دمشق میں بیٹھے مگر شامی صدر کو دمشق میں تنازعے کے سیاسی حل کے لیے رہنا چاہیے''۔ان کا اشارہ شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کی جانب تھا۔اس تنظیم نے چند ماہ قبل القاعدہ سے اپنا ناتا توڑ لیا تھا اور نیا نام ''فتح الشام محاذ'' رکھ لیا تھا۔

پیسکوف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی فوج اور روس نے ہفتے کو مسلسل تیسرے روز بھی حلب پر فضائی حملوں میں وقفہ کیا ہے۔پہلے روس نے جمعرات کو صرف ایک دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں اس نے توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔روسی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مغربی طاقتوں کے دباؤ پر نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے اس عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے جس کا مقصد حلب کے مشرقی حصے سے زخمی شہریوں اور باغی جنگجوؤں کو نکلنے کا موقع دینا تھا لیکن باغی گروپوں نے اس پیش کش کو مسترد کردیا ہے اور شامی حکومت کے انخلاء کے لیے بنائے گئے مخصوص راستوں سے شہریوں اور باغی جنگجوؤں کو شہر چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ہے۔

صدر پوتین کے ترجمان نے روس کی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فضائی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ''دہشت گردوں'' کے خلاف لڑنا تھا اور شامی حکومت کے سقوط کی صورت میں مزید مہاجرین یورپ کا رُخ کرسکتے ہیں اور یورپی ممالک میں دہشت گردی کے مزید حملے ہوسکتے ہیں۔

پیسکوف نے کہا: ''بعض ممالک شیطان کے ساتھ کھیلنے اور دہشت گردوں کو استعمال کرکے بشارالاسد سے گلو خلاصی کی کوشش کررہے ہیں اور بعض سوچے سمجھے بغیر یہ کہہ رہے ہیں کہ شامی صدر کو اقتدار چھوڑنا ہوگا لیکن اگر دمشق کا سقوط ہوجاتا ہے اور دہشت گرد وہاں قبضہ کرلیتے ہیں تو پھر اس بحران کا کوئی سیاسی حل نہیں نکل سکے گا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''شامی تنازعے کے جلد حل کی بہت تھوڑی امید ہے۔اس کے لیے عالمی برادری کو طویل اور دقت طلب کام کی ضرورت ہے۔تمام شامی علاقوں کو آزاد کرایا جانا چاہیے اور ملک کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے کیونکہ اگر یہ ملک ٹوٹا تو اس کے پورے خطے کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے''۔