.

بشار حکومت کے 3 کیمیائی حملوں میں ملوث ہونے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی تحقیقات نے اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ شامی حکومت تیسری مرتبہ زہریلی گیس کے حملے میں ملوث ہے۔ تحقیقات میں جو کہ 13 ماہ تک جاری رہیں شامی حکومت کو 16 مارچ 2015 کو ادلب صوبے کے گاؤں قمیناس میں زہریلی گیسوں کے ذریعے حملے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی اولین رپورٹ میں بتایا تھا کہ شامی حکومت کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے ادلب صوبے کے دو دیہاتوں تلمنس (2014) اور سرمین (2015) میں کلورین گیس پھینکی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دوسری جانب داعش تنظیم نے 21 اگست 2015 کو حلب صوبے کے شہر مارع میں مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا تھا۔ تاہم تحقیق کاروں نے عندیہ دیا ہے کہ شمالی شام میں تین دیگر کیمیائی حملوں کے ذمے داران کا تعین کرنے کے لیے مواد ناکافی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اضافی وقت طلب کیا ہے تاہم مذکورہ کام کی مہلت 23 اکتوبر کو ختم ہوجائے گی۔

تینوں واقعات میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کلورین گیس سے بھرے ہوئے ڈرموں کو پھینکا گیا تھا۔ مغربی سفارت کے مطابق شامی فوج وہ واحد فریق ہے جس کے پاس ہیلی کاپٹر ہیں۔

یہ واقعات حماہ صوبے میں کفر زیتا (28 اپریل 2014) اور ادلب صوبے کے دو قصبوں قميناس (16 مارچ 2015) اور بنش (14 مارچ 2015) کو پیش آئے۔

روس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذکورہ رپورٹ پابندیاں عائد کیے جانے کے لیے ہر گز کافی نہیں۔

ممنوعہ ہتھیار سے "پھیپھڑے جلتے ہیں اور دم گھٹتا ہے"

یاد رہے کہ 1997 کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے (جس میں شام 2013 میں شامل ہوا) کے مطابق کلورین کا ہتھیار کے طور پر استعمال ممنوع ہے۔ اگر کلورین گیس سانس کے ذریعے انسان کے اندر چلی جائے تو وہ پھیپھڑوں میں پہنچ کر ہائیڈروکلورک ایسڈ میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے بعد پھیپھڑوں کے جلنے اور دم گھٹنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ماسکو اور واشنگٹن کے توسط سے طے پائے جانے والے ایک معاہدے تحت شامی حکومت 2013 میں اپنے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔ سلامتی کونسل نے اس معاہدے کی تائید ایک قرارداد کے ذریعے کی تھی۔ قرارداد میں واضح کیا گیا تھا کہ شام میں "کیمیائی ہتھیاروں کی بنا اجازت منتقلی یا کیمائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں" اقوام متحدہ کے منشور کی ساتویں فصل کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

مذکورہ فصل پابندیوں اور سلامتی کونسل کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت سے متعلق ہے۔ سلامتی کونسل کو کیمیائی حملوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات یا مجموعوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک دوسری قرارداد کی ضرورت ہو گی۔ ان پابندیوں میں سفر پر پابندی اور اثاثوں کا منجمد کیا جانا شامل ہے۔