.

کرکوک "پرسکون".. موصل کے جنوب میں داعش کا گڑھ گھیرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کرکوک اور موصل کی جانب فوج کے دو بریگیڈوں کو روانہ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

کرکوک کی صوبائی کونسل کے سربراہ ریبوار طالبانی نے کے مطابق داعش کے مسلح ارکان کے ساتھ جھڑپیں ختم ہو گئی ہیں جنہوں نے جمعے کی صبح کرکوک پر دھاوا بول کر شہر کے وسط میں متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ "العربیہ" ٹی وی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں طالبانی نے بتایا کہ کرکوک میں امن و امان کی صورت حال قابو میں آ چکی ہے۔

اس دوران کرکوک صوبے کے گورنر نجم الدين كريم نے بتایا ہے کہ کرکوک پر حملے کی کارروائی میں اب تک داعش تنظیم کے 35 کے قریب ارکان مارے گئے ہیں۔

موصل کے جنوب میں داعش کے خطرناک ترین گڑھ کا گھیراؤ

ادھر موصل کے معرکے میں عراقی فوج نے شہر کے جنوب میں واقع داعش کے اہم ترین گڑھ ناحیہ الشورہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

نینوی صوبے کی آپریشن کمان نے اعلان کیا ہے کہ پولیس فورس کے تعاون سے القیارہ کے شمال اور مشرق میں 20 دیہاتوں کا کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے۔ پولیس فورس نے باور کرایا ہے کہ الشورہ تحادی پولیس فورس کے مطابق ناحیہ الشورہ کو گھیرے میں لے کر شدید بم باری اور گولہ باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے بعد اس پر دھاوا بولا جائے گا۔

ناحیہ الشورہ کو موصل کے جنوب میں داعش تنظیم کا اہم اور خطرناک ترین گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

"کرکوک حملے" کی تفصیلات

ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعے کی صبح داعش کے درجنوں جنگجو بھاری ہتھیاروں اور دستی بموں کے ساتھ شمالی عراق میں واقع شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق افغانی لباس میں ملبوس سر کو بڑے رمالوں سے ڈھانپے داعش کے ارکان نے متعدد عمارتوں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور مساجد پر قبضہ کر لیا۔

عراقی ذمے داران کے اعلان کے مطابق دھماکا خیز مواد سے بھری جیکٹیں پہنے ہوئے خودکش بمباروں نے جمعے کی صبح شمالی عراق کے شہر کرکوک میں متعدد سرکاری عمارتوں پر حملہ کر دیا۔

حملے میں پولیس کے صدر دفتر ، سیکورٹی چنگیوں ، گشتی یونٹوں اور کرکوک کے شمال مغربی میں واقع قصبے دبس میں بجلی کے پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ عراقی دارالحکومت بغداد سے 240 کلومیٹر شمال میں واقع شہر پر کرد فورسز کا کنٹرول ہے۔ تاہم کرکوک شہر میں بجلی کی فراہم بلا انقطاع جاری ہے۔

عراقی ذمے داران کے مطابق دبس میں بجلی گھر پر حملے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے جن میں 12 عراقی ملازمین اور 4 ایرانی ٹیکنیشیئن شامل ہیں۔

ادھر پیشمرگہ فورسز نے اربیل اور سلیمانیہ سے کرکوک کی جانب کمک بھیجی اور شہر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا۔ "الحدث" نیوز چینل کے مطابق شہر میں کرد فورسز اور داعش کے ارکان کے درمیان سڑکوں پر گھمسان کی لڑائی ہوئی۔

غیر فعال گروپ پھر سے متحرک

"الحدث" نیوز چینل نے بتایا تھا کہ کرکوک میں داعش تنظیم کے متعدد غیر فعال گروپ باہر نکل کر متحرک ہو گئے ہیں جب کہ ایک گروپ مسجد میں روپوش ہے۔

ایک کرد ویب سائٹ "روداوو" نیٹ ورک کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کرکوک میں داعش تنظیم کے 6 خودکش بمباروں کو ہلاک کر دیا جب کہ سکیوٹی ذرائع نے داعش کے 4 ارکان کے مارے جانے کی خبر دی۔

دوسری جانب داعش تنظیم نے انٹرنیٹ پر جاری بیان میں ان حملوں کی ذمے داری قبول کر لی۔

ایک وڈیو ٹیپ میں داعش کے بعض ارکان خود کو پیشمرگہ فورسز کے حوالے کرتے نظر آئے۔

عراقی صحافی جاں بحق

سکیورٹی اور میڈیا ذرائع کے مطابق جمعے کے روز کرکوک میں داعش تنظیم کے ایک نشانہ باز کی گولی لگنے سے ایک ترکمانی عراقی صحافی احمد ہاجر اوگلو أوغلو جاں بحق ہو گیا۔ کرکوک پولیس کے ایک افسر کے مطابق " 30 سالہ اوگلو جو دو بچوں کا باپ تھا سینے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوا"۔

یہ تمام تر پیش رفت موصل شہر کو شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کے پانچویں روز سامنے آئی۔ موصل شہر عراق میں داعش تنظیم کا آخری سب سے بڑا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔