.

یمن : گزشتہ 24 گھنٹوں میں "ملیشیاؤں" کی جنگ بندی کی 900 پامالیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی افواج اور سرحدی محافظین کی فورسز نے مملکت کے صوبے جازان میں "المُوسمْ" سیکٹر کے مقابل یمن کے علاقے میں حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ارکان کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔ یہ باغی عناصر جمعے کی شب سعودی یمنی سرحد کے قریب آنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ادھر اتحادی افواج کی کمان نے جمعے کی شب جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی ملیشیاؤں اور ان کے معاونین کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزیوں میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران جازان سیکٹر میں 124 اور نجران سیکٹر میں 81 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ علاوہ ازیں یمن کی سرحد کے اندر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے 692 واقعات پیش آئے۔ ان میں 124 مارب میں،24 شبوہ میں، 265 تعز میں، 44 الضالع میں، 48 حجہ میں، 116 الجوف میں، 25 صنعاء میں، 41 البیضاء میں اور 5 واقعات عدن میں ریکارڈ کیے گئے۔

جمعے کے روز متعدد سرحدی علاقوں میں شہروں اور دیہات کو عسکری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ صامطہ صوبے میں الجرادیہ کے گنجان آباد علاقے میں راکٹوں کے گرنے سے عوامی املاک کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس دوران فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے سعودی افواج نے الطوال کی سرحدی گزرگاہ کے مقابل علاقے میں راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا۔

اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہمارا حق ہے : الجبیر

اس سے قبل سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا جنگ بندی کے دوران باغیوں کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی تھی۔ انہوں نے یہ بات بدھ کی شب اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ ملاقات کے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جان کیری نے حوثی باغیوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کی پابندی کریں۔ انہوں نے باور کرایا کہ یمنی باغیوں کے میزائل حملوں کو روکنا اور اپنی سرحد کی حفاظت کرنا سعودی عرب کا بنیادی حق ہے۔

جنگ بندی کے پہلے روز ہی درجنوں خلاف ورزیاں

یمن میں جنگ بندی کے پہلے روز ہی حوثی اور صالح ملیشیاؤں کی جانب سے خلاف ورزی کے 43 واقعات دیکھنے میں آئے۔ یہ واقعات سعودی عرب اور یمن کے درمیان سرحدی علاقوں میں پیش آئے جن میں خاص طور پر مملکت کے علاقے جازان اور نجران شامل ہیں۔

اتحادی افواج نے خلاف ورزیوں کا جواب دینے کی تاکید کر دی

سعودی مشیر دفاع اور اتحادی فوج کے ترجمان جنرل احمد عسیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمنی باغیوں کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

الحدث ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود باغیوں کی طرف سے شہریوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے جمعرات کے روز زور دے کر کہا تھا کہ باغیوں کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود آئینی حکومت جنگ بندی کی پاسداری کرے گی۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد سے ملاقات کے بعد انہوں نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ ہمیشہ سے امن کو یقینی بنانے کے خواہش مند رہے ہیں۔