.

ترک فوج کی کردوں کی درخواست پر عراق میں داعش پر بمباری

عراقی کردستان کی البیش المرکہ ملیشیا کا موصل کے نزدیک قصبے بعشیقہ پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک فوج نے عراق کے شمالی شہر موصل کے نزدیک واقع قصبے بعیشقہ میں توپ خانے سے داعش کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے اتوار کو ایک نشری نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ کردستان کی البیش المرکہ فورسز نے داعش کے خلاف لڑائی میں مدد کی درخواست کی تھی۔

انھوں نے ترکی کے مغربی علاقے کے دورے کے موقع پر ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''البیش المرکہ نے بعشیقہ کے ہوائی اڈے پر موجود ہمارے فوجیوں سے مدد کے لیے کہا تھا۔ہم انھیں توپ خانے ،ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کے ذریعے مدد دے رہے ہیں''۔

بعشیقہ کے اڈے پر ترک حکام کے مطابق قریباً سات سو ترک فوجی تعینات ہیں اور وہ عراقی جنگجوؤں کو داعش کے خلاف لڑائی کے لیے تربیت دے رہے ہیں تاکہ اس جنگجو گروپ کو موصل اور دوسرے علاقوں سے دیس نکالا دیا جاسکے۔بعض اطلاعات کے مطابق وہ اب تک تین ہزار سے زیادہ عراقیوں کو تربیت دے چکے ہیں۔ان کی بعیشقہ میں موجودگی پر عراقی اور ترک حکومت کے درمیان کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔

قبل ازیں اتوار کو عراق کے کرد جنگجوؤں نے شمالی شہر موصل کے نزدیک واقع قصبے بعشیقہ پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو لڑائی کے بعد نکال باہر کیا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے بتایا ہے کہ عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کو اپنی فورسز البیش المرکہ کی اس فتح کی اطلاع دی تھی۔کرد جنگجوؤں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ وہ بعیشقہ میں داخل ہوگئے ہیں لیکن انھوں نے صحافیوں کو اس قصبے کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔

عراقی فورسز ،کرد البیش المرکہ اور ان کے پشتی بان امریکا کی قیادت میں اتحاد نے گذشتہ سوموار کو داعش کو شمالی شہر موصل اور اس کے نواحی قصبوں سے نکال باہر کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کی لڑائی کے دوران البیش المرکہ نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔

جنگی منصوبے کے مطابق البیش المرکہ کے لیے موصل شہر سے بیس کلومیٹر دور حد فاصل کھینچی گئی ہے اور اس کے جنگجو اس لکیر سے آگے نہیں بڑھیں گے۔اس کے بعد عراق کی ایلیٹ وفاقی فورسز آگے بڑھیں گی اور وہ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کریں گی۔ایک تخمینے کے مطابق موصل شہر میں اس وقت دس لاکھ سے زیادہ شہری مقیم ہیں۔

ادھر بغداد میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے البیش المرکہ کی داعش مخالف جنگ میں کارکردگی اور عراقی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون کے لیے کوششوں کو سراہا ہے۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کے کمانڈر اسٹیفن ٹاؤنسینڈ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ''داعش مخالف کارروائی میں پیش رفت اطمینان بخش ہے مگر داعش کے جنگجو سخت مزاحمت کررہے ہیں۔یہ مزاحمت توقع کے عین مطابق ہے اور یہ ایک سخت لڑائی ہے''۔تاہم ایک فرانسیسی عہدے دار کا کہنا ہے کہ موصل شہر میں داعش کے خلاف دو بدو لڑائی میں ابھی ایک ماہ کا فاصلہ حائل ہے۔