.

موصل : البغدادی جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے.. داعش میں پھوٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موصل میں داعش تنظیم کے اندر پھوٹ پڑنے اور تنظیم کی جانب سے متعدد ارکان کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کی خبروں کے بعد.. کردستان کی حکومت کے وزیر داخلہ کریم سنجاری نے تصدیق کی ہے کہ داعش تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی 3 روز قبل موصل میں دیکھا گیا جہاں وہ اپنے جنگجوؤں میں تحریک پیدا کر رہا ہے۔

سنجاری نے تنظیم کے خلاف بغاوت کے اشاروں کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا کہ "موصل کے بعض مقامی لوگ رات کے دوران داعش پر حملے کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں تنظیم کے بعد ارکان مارے گئے ہیں"۔

ادھر ایک عراقہ اعلی سیاسی شخصیت باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ البغدادی کے حکم پر داعش تنظیم کے نمایاں کمانڈروں میں 59 کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا پس منظر یہ ہے کہ مذکورہ ارکانے ایک تیسرے فریق کے ذریعے "محفوظ راستے" کے بدلے موصل سے انخلاء کے حوالے سے مذاکرات کیے تھے۔

مذکورہ سیاسی شخصیت نے عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کو بتایا کہ " البغدادی اس وقت اپنے پیروکاروں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے موصل میں موجود ہے اور وہ معرکے کی قیادت کر رہا ہے جب کہ تنظیم کے ہراول دستے کی قیادت نے قیادت موصل سے نکل کر عراقی سرحد سے باہر جانے کے خیال کو قبول کر لیا۔ تاہم البغدادی نے ان قائدین کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس سے تنظیم کے اندر شدید نوعیت کے اختلافات کی تصدیق ہوتی ہے۔ عراقی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی منصوبہ بندی پر تیزی سے عمل درامد کو یقینی بنانا چاہیے"۔

البغدادی کا منصوبہ اور انسانی ڈھالیں

عراقی سیاست داں کا یہ بھی کہنا ہے کہ "البغدادی کے منصوبے میں موصل کے اندر معرکے کو مختلف جہتوں پر پھیلا دینا شامل ہے۔ ان میں اپنے جنگجوؤں کا انخلا بالخصوص عرب جنگجوؤں کا اور اسی طرح موصل کے اہلیان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا جس کا مطلب ہے کہ شہریوں کا جانی نقصان واقع ہوگا اور تنظیم اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے"۔

داعش اور شہریوں کا خاتمہ

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کئی مرتبہ اس امر سے خبردار کر چکی ہے کہ داعش شہریوں کو انسانی ڈھال بنا سکتی ہے۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینا شمدسانی نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ داعش تنظیم نے عراق کے شہر موصل کے نواحی دیہات سے 550 گھرانوں کو شہر کے نزدیک اپنے ٹھکانوں میں یرغمال بنا لیا ہے تاکہ ان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ ترجمان کے مطابق تنظیم کی جانب سے ایک گاؤں میں 40 شہریوں کو قتل کرنے سے متعلق رپورٹں کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔