شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب پر فضائی حملے ،16 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کے مختتلف علاقوں پر سوموار کے روز فضائی حملوں میں تین بچوں سمیت سولہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ صوبے کے جنوب میں واقع قصبے خان شیخون میں فضائی حملوں میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں دو خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔رصدگاہ کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے روسی یا شامی طیاروں نے کیے ہیں۔

ادلب کے شمال میں واقع قصبے کفر تخارم میں فضائی بمباری میں چار خواتین اور دو بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔نصف شب کے بعد ان فضائی حملوں میں تین اقامتی عمارتوں ،مقامی حکومت کی ایک عمارت اور ایک اسٹیڈیم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی رضاکار صبح کے بعد تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے زخمیوں اور مرنے والوں کی لاشیں نکال رہے تھے۔ابو محمد نامی ایک مقامی شہری نے بتایا ہے کہ ''میری بہن کا گھر بمباری سے تباہ ہوگیا ہے۔وہ خود اور ان کی بیٹی ایک اور خاندان سمیت ماری گئی ہیں''۔

اس شخص کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی فوجی اڈا نہیں تھا اور تمام فوجی ٹھکانے قصبے سے باہر ہیں۔اس کے باوجود اس قصبے پر بمباری کی گئی ہے۔اس کے نزدیک واقع ایک اور قصبے کفر اود میں راکٹ حملے میں ایک مرد اور ایک عورت ہلاک ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ ادلب پر باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح کا کنٹرول ہے۔فتح الشام محاذ بھی اسی اتحاد میں شامل ہے۔اس تنظیم کا سابقہ نام النصرۃ محاذ تھا اور اس نے القاعدہ سے ناتا توڑنے کے بعد اپنا نام بھی تبدیل کر لیا تھا۔اس صوبے میں حالیہ دنوں میں شامی اور روسی طیاروں نے تباہ کن بمباری کی ہے اور جمعرات کے بعد سے بمباری میں گیارہ خواتین اور نو بچوں سمیت چوالیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں