.

امن مندوب کا یمنی باغیوں کی انقلابی کونسل سے ملاقات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں شورش پرقابو پانے کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمن میں باغیوں کی طرف سے قائم کردہ انقلابی کونسل کے ارکان سے ملاقات سے صاف انکار کر دیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے ذرائع نے اقوام متحدہ کے امن مندوب کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے وہ یمن کے حوثی شدت پسندوں اور سابق مںحرف صدر علی عبداللہ صالح کی طرف سے قائم کردہ انقلابی کونسل کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے انہوں نے اس کونسل کے ارکان سے ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صنعاء ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے الشیخ احمد نے کہا کہ ان کی آمد کا مقصد حوثیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے مذاکرات کاروں سے ملاقات کے۔وہ پچھلے ہفتوں کے دوران کویت کی میزبانی میں ہونے والی مفاہمتی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے فریقین سے بات چیت کررہے ہیں۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں علی صالح کے ایک وفد کو کویت مذاکرات کے حوالے سے صنعاء کے دورے پرآئے اقوام متحدہ کے مندوب سے ملنے سے روک دیا گیا ہے۔ علی صالح کے گروپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سیاسی کونسل کے کسی رکن کو اقوام متحدہ کے ایلچی سمیت کسی دوسری عالمی شخصیت سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔

عینی شاہدین کا کہناہے کہ گذشتہ روز صنعاء میں شیراتون ہوٹل کے باہر سیکڑوں افراد جن میں باغیوں کے مسلح جنگجو بھی شامل تھے جمع ہوئے اور اقوام متحدہ کے امن مندوب کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی نے اسی ہوٹل میں قیام کر رکھا تھا۔ باغیوں نے ولد الشیخ احمد پر جانب داری کا الزام عاید کیا اور ان سے فوری طور پر ملک سے نکل جانے کامطالبہ کیا۔

درایں اثناء سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی اقوام متحدہ کے امن مندوب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر جانب داری برتنے اور عرب اتحاد کی ترجمانی کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

یمن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ صنعاء کے دورے پرآئے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسماعیل ولد الشیخ احمد پر باغیوں کی طرف سے انقلابی کونسل کےسربراہ صالح الصماد سے ملاقات کے لیے سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔