المالکی کے فرقہ وارانہ نعرے پر یمن میں شدید رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے سابق وزیراعظم اور ایران کے ’ٹاؤٹ‘ سمجھے جانے والے شدت پسند سیاست دان نوری المالکی کی جانب سے یمن کےحوثی باغیوں کی حمایت میں سامنے آنےوالےایک بیان پریمن کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں سخت غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے عراق کے دارالحکومت بغداد میں صحوۃ الاسلامیۃ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی نے بھی شرکت کی۔اجلاس سے دیگر سرکردہ شیعہ رہ نماؤں کے ساتھ ساتھ سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی فرقہ وارانہ تقریر میں یمن سمیت کئی دوسرے عرب شہروں کی طرف مخصوص فرقہ وارانہ نعروں کا استعمال کرتے ہوئے خطے میں ایرانی عزائم کو آگے بڑھانے کی مذموم کوشش کی۔ نوری المالکی نے کہا کہ ’نینویٰ ہم آ رہے ہیں‘ کے نعرے کے کئی دوسرے پہلو بھی ہیں۔ وہ یہ ’اے رقہ ہم آ رہے ہیں‘،’حلب ہم آرہے ہیں‘ اور ’اے یمن ہم آ رہے ہیں‘۔

نوری المالکی کے فرقہ وارانہ نوعیت کےنعروں پر مبنی تقریر پر یمن کے سیاسی اور سفارتی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دمشق میں یمن کےسابق سفیر عبدالوھاب طواف نے کہا کہ ’اگرچہ نوری المالکی کا موجودہ بیان ماضی کی طرح زیادہ خطرناک چیلنج نہیں مگر ان کے یہ نعرے ان چھ عرب ممالک میں ایران کے جاری سیاسی عزائم کا آئینہ دار ہے۔ عرب ممالک ہی نہیں بلکہ پورا مغرب بھی مانتا ہے کہ ایران بن لادن کی کارروائیوں کی بنیاد پر ’سنی دہشت گردی‘ کانعرہ لگا کر اپنے ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے نوری المالکی جیسی کٹھ پتلیوں کو استعمال کررہا ہے۔

سابق یمنی سفیر کا کہنا تھا کہ نوری المالکی کے فرقہ وارانہ نعرے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس کے بعد عرب ممالک کے پاس صرف دوہی آپشن بچ جاتے ہیں۔ یا تو وہ متحد ہو کر ایرانی مداخلت اور اس کی سازشوں کا مقابلہ کریں یا ایران کے ساتھ گھٹنے ٹیک دیں۔

یمن کے سرکردہ سیاسی رہ نما اور دانشور محمد سعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے نوری المالکی کے بیان پرکڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ نوری المالکی ’اہل تقیہ‘ ہیں مگرانہوں نے تقیہ کا لباس ترک کرکے اپنے مذموم عزائم کا کھل کر اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ نوری المالکی نے اپنی تقریر اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو تحریر کیےگئے مکتوب میں جو زبان استعمال کی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ المالکی ایران کے اشاروں پر یمن میں حوثیوں کی فرقہ واریت کو بھڑکانے کے لیے ان کی حمایت میں نعرہ زن ہیں۔

یمنی سیاسی تجزیہ نگار ناجی محمد کا کہناہے کہ نوری المالکی کی زبان سے ’یمن ہم آرہے ہیں‘ کا نعرہ ایران کی طرف سے حوثی باغیوں کے لیے واضح پیغام ہے تہران دوسرے عرب ملکوں کی طرح یمن میں بھی فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ عراق، لبنان اور شام کے بعد ایران کے ساتھ یمن تک پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے المالکی کے متنازع بیان کو ستمبر کے اوائل میں جاری کردہ ان کے اس بیان سے جوڑتے ہوئے کہا کہ المالکی چند ہفتے پہلے کہہ چکےہیں کہ وہ الحشد الشعبی، کتائب ابو العباس، عصائب اھل الحق، کتائب النجباء، امام علی ملیشیا، سید الشھداء بریگیڈ، بدر، سرایا الخراسانی اور دیگر گروپوں کے پانچ ہزار جنگجو یمن بھیجنے کی تیاری کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں