شام : اسکول کمپلیکس پر فضائی حملوں میں بچوں سمیت 17 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں لڑاکا طیاروں نے ایک اسکول کی عمارت کو پے درپے حملوں میں نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت سترہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ فضائی حملے شامی یا روسی لڑاکا طیاروں نے کیے ہیں۔

مقامی رضا کاروں کے زیرانتظام ادلب نیوز نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ ایک گاؤں حاس میں اسکول کے باہر جمع بچوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے اور مہلوکین میں زیادہ تر بچے ہیں۔نیٹ ورک نے مزید بتایا ہے کہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے شدید زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ہلاکتوں کی تعداد بائیس بتائی ہے اور کہا ہے کہ ان میں چودہ بچے اور ایک خاتون شامل ہے۔ رضاکاروں کی جانب سے آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں حملوں کی جگہ سے دھویں کے بادل آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں اور امدادی کارکنان زخمیوں کو ایک گرد آلود سڑک کے ذرِیعے اسپتال منتقل کررہے ہیں۔اس کے دونوں طرف تباہ شدہ عمارتیں نظر آرہی ہیں۔

حملے کی جگہ پر موجود ایک کارکن معاذ الشامی کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقے پر کم سے کم دس فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ایک ننھی بچے نے حملے کے بعد چلاتے ہوئے کہا کہ ''میں اب اسکول میں مزید نہیں جانا چاہتی ہوں''۔

ادھر شمالی صوبے حلب کے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ایک گاؤں ماذق میں ایک ہیلی کاپٹر نے بیرل بم گرایا ہے،اس ہیلی کاپٹر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شامی فوج کا تھا۔اس علاقے میں ترکی کے حمایت یافتہ باغی دھڑوں کے جنگجو برسرپیکار ہیں اور داعش کو علاقے سے نکال باہر کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اگر بیرل بم کے اس حملے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ شامی فوج کا ترکی کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر یہ پہلا حملہ ہوگا۔ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ حملہ کب کیا گیا تھا۔البتہ اس نے کہا ہے کہ اس حملے میں شامی حزب اختلاف کے دو جنگجو ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شامی ہیلی کاپٹر نے بیرل بم سے یہ حملہ ایسے وقت میں کیا تھا جب تل ماذق میں کرد جنگجوؤں اور ترکی کے حمایت باغی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری تھی اور اس میں شامی حزب اختلاف کے گیارہ اور کرد ملیشیا کے پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔

کردوں کی قیادت میں جنگجوؤں نے اس گاؤں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔یہ داعش کے زیر قبضہ شہر الباب سے دس میل دور واقع ہے۔کرد ملیشیا کے ایک کمانڈر نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ شامی حکومت کی فورسز نے ترکی کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر کوئی بمباری کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں نقصانات کی اب من مانی تشریح کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں