قاسم سلیمانی "تل عفر" معرکے میں شرکت کے لیے بے تاب کیوں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایرانی القدس فورس کا دہشت گرد کمانڈر دو روز قبل عراقی کردستان سے بغداد پہنچ گیا۔ اس کی آمد کا مقصد موصل کے شمال میں واقع شہر تل عفر کے معرکے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی شرکت پر بات چیت کرنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران مذکورہ علاقے کو گزرگاہ بنانا چاہتا ہے تاکہ ایرانی فورسز اس راستے سے شام جا سکیں۔

ایران نواز پاپولر موبیلائزیشن ملیشیائیں اس وقت تل عفر کے اطراف میں متعین ہیں جو عراق, شام اور ترکی کے درمیان سرحدی سنگم پر واقع ہے۔

اس بات کی توقع ہے کہ سلیمانی ان بعض علاقوں میں عسکری محاذوں کی نگرانی کریں گے جن کو "داعش" سے آزاد کرانے کی کارروائیوں میں پاپولر موبیلائزیشن شریک ہوگی۔ ان علاقوں میں موصل کے شمال میں واقع تل عفر بھی شامل ہے جہاں کی زیادہ تر آبادی ترکمان قومیت رکھنے والے شیعہ باشندوں پر مشتمل ہے۔

ایران اور خطے میں اس کے حلیفوں کے نزدیک موصل کا معرکہ دور رس اہمیت کا حامل ہے اور یہ حلب اور شام کے بعض علاقوں میں جاری معرکوں پر اثر انداز ہوگا۔

عراقی ذرائع ابلاغ نے "پاپولر موبیلائزیشن" کی ایک نمایاں شخصیت کے حوالے سے بتایا ہے کہ "قاسم سلیمانی اپنے معاونین اور ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کے ایک گروپ کے ہمراہ بغداد پہنچا تاکہ موصل کے معرکے کے لیے کو روابط کو مربوط بنایا جا سکے"۔

ادھر مشترکہ آپریشن کمان نے بتایا کہ پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں نے موصل کے جنوبی محور میں اپنے مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم مشن کی نوعیت کا تعین نہیں کیا گیا۔ اگرچہ یہ ملیشیائیں معرکوں کے آغاز کے وقت سے ہی لڑائی میں عملی طور پر حصہ لے رہی ہیں۔

ایک عراقی افسر کے مطابق قاسم سلیمانی کا کہنا ہے کہ "موصل کے معرکے کے درست سمت میں جاری رہنے پر مطمئن ہونے سے قبل وہ اپنے ملک ہر گز نہیں لوٹیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں