.

کئی اقارب کے قتل کے بعد محمد جابر بشارالاسد کا نیا ’مجاھد‘!

اسد نواز ملیشیا کے سربراہ نے ایرانی مداخلت کی قلعی کھول دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے حکمران علوی قبیلے کی سرکردہ شخصیات اور صدر بشار الاسد کے قریبی عزیزوں کے لیے ماضی میں ’مجاھد‘ کا لقب دیا جاتا رہا ہے۔ بشارالاسد کے کئی مقرب ’مجاھدین‘ اب تک اپنی جانوں کے نذرانے بھی قربان کرچکے ہیں۔ جب کہ بعض ’مجاھد‘ اب بھی حیات ہیں اور اسد رجیم کی حمایت میں میدان جنگ میں سرگرم بھی ہیں۔

انہی نام نہاد ’مجاھدین‘ میں ایک نام بریگیڈیئر جنرل محمد جابر کا بھی شامل ہے۔ یہ صاحب بھی بشارالاسد کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ موصوف "صقور الصحراء" [صحرائی شاہین] نامی ملیشیا کے سربراہ ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک تفصیلی بیان میں اپنا تعارف کراتے ہوئے ایران اور بشارالاسد کے باہمی تعلقات اور تہران کی شام میں مداخلت سے پردہ اٹھایا ہے۔

’مجاھد‘ بریگیڈیئر جنرل محمد جابر لکھتے ہیں کہ ان کی جماعت کا نام ’علویۃ الولاء مھدویۃالولاء‘‘ ہے۔ وہ عرصے سےاسی جماعت کے ساتھ وابستہ چلے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے آبائی شہر اللاذقیہ میں ایرانی مذہبی رہ نماؤں کا گہرا اثرو رسوخ ہے۔ نیز وہ اپنے بیان میں شام کی حقیقی صورت حال کے بارے میں بشارالاسد کے من گھڑت دعوؤں کی قلعی بھی کھول رہے ہیں۔

یہاں تھوڑا سا ذکر بشارالاسد کے’مجاھد‘ کے بارے میں اہمیت کا حامل ہوگا۔ شام میں حکمراں خاندان کی طرف سے اپنے قبیلے اور حکمراں خاندان کی اہم شخصیات کے لیے ’مجاھد‘ کا لقب اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کو مرنے کے بعد بھی ’مجاھد‘ کہا جاتا ہے۔ مگر زندہ مجاھدوں کی تعداد اب بہت کم رہ گئی ہے۔ علوی قبیلے کے’مجاھد‘ کا لقب پانے والے بیشتر عہدیدار ہلاک ہوچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسدی قبیلے کے نام نہاد ’مجاھد‘ کرپشن، قتل عام، اسلحہ کی تجارت اور منشیات کےفروغ جیسے مکروہ جرائم میں ملوث رہےہیں۔ انہوں نے ہمیشہ حکمراں خاندان میں اپنے گہرے اثرو رسوخ اور اختیارات کو بھی اپنے ذاتی مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا۔

شام کی نیشنل ڈیفینس ملیشیا نامی تنظیم کے سربراہ ھلال الاسد کو بھی ’مجاھد‘ کا لقب دیا گیا۔ انہیں سنہ 2014ء کو اللاذقیہ میں شامی اپوزیشن نے قتل کردیا تھا۔ اس کے بعد بشارالاسد اور آل اسد میں ایک نام محمد توفیق کا نامی شخصیت کا ہے جسے‘مجاھد‘ کا لقب دیا گیا۔ توفیق کو شیخ الجبل کا لقب بھی عطاکیا گیا تھا۔ سنہ 2015ء کو اس مجاھد کو بھی ٹھکانے لگا دیا گیا۔ اب بشارالاسد کے پاس ان کے قبیلے کے ’مجاھدوں‘ کی تعداد گنی چنی رہ گئی ہے۔

ایران پر فرقہ واریت کے فروغ کا الزام

یہ بات اظہر امن الشمس ہے کہ ایران شام میں اپنے نام نہاد مفادات کے حصول کے لیے وہاں پرہرطرح سے مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے۔ بشارالاسد کے مقرب ’مجاھد‘ بریگیڈیئر محمد جابر کی زیرنگرانی قائم ملیشیا’’صقو الصحراء‘‘ چونکہ بشارالاسد کےدفاع میں لڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اس تنظیم کی بھی مالی، مادی اور معنودی مدد کررہا ہے۔ اسے اسلحہ اور رقوم مہیا کی جا رہی ہیں۔

’مجاھد‘ جابر نے نو اکتوبر کو فیس بک پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں اعتراف کیا کہ ایران کی سرکردہ مذہبی، سیاسی اور عسکری شخصیات بشارالاسد کے آبائی شہر اللاذقیہ میں موجود ہیں جو نہ صرف جنگ پر اکساتی ہیں بلکہ فرقہ واریت کے فروغ کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

صقور الصحراء کے آفیشل فیس بک پیج پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں بریگیڈیئر محمد جابر نے اپنا عقیدہ بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی امت’محمدیہ الاسلام‘ ہے علوی اس کی شناخت، حسینیت اس کی بقاء ،جعفری اس کا منہج اور مہدویت اس کی وفاداری کا مرکز ہے‘۔ وہ پوری وضاحت کے ساتھ کہتا ہے کہ علوی قبیلا امام حسین کے قتل کی حقیقت پریقین نہیں رکھتا اور نہ ہی اس واقعے کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ وہ علوی قبیلے کے سربراہ ابو عبداللہ الحسین بن حمدان الحصیبی اور اس کی کتب کے حوالے بھی پیش کرتا ہے۔

علوی قبیلے کی ایرانی رجیم کے ساتھ گہری وابستگی ہی دراصل شام کے بیشتر علاقوں بالخصوص صدر اسد کے آبائی شہر اللاذقیہ میں ایرانی اثرونفوذ میں اضافے کا ذریعہ ہے۔ اس سے قبل سنہ 2014ء میں شامی باغیوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے ہلال الاسد اور 2015ء کو محمد توفیق ہلاک ہوئے تو ان کی جگہ ایران کی منشاء سے ’مجاھد‘ کا لقب محمد جابر کو دیا گیا۔

شامی حکومت سرکاری سطح پر یہ بات تسلیم کرچکی ہے کہ شام کے اللاذقیہ شہر اور اسد رجیم کے زیرقبضہ ساحلی علاقوں میں اہل تشیع مسلک کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایران کا کلیدی کردار ہے۔ ایران نے ان علاقوں میں قم کے فارغ التحصیل شیعہ مبلغ ایمن زیتون کی زیرنگرانی ’’الرسو الاعظم‘‘ نامی مذہبی اسکولوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا۔ اس کے علاوہ پہاڑی علاقوں عین شقاق، راس العین اور دیگر مقامات پر بھی مذہب آل بیت [شیعہ مسلک] کی تعلیم کی ترویج کے لیے مراکز اور درسگاہیں بنائی گئی ہیں۔