.

حلب میں مارا جانے والا اعلی سطح کا ایرانی جنرل کون ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک جنرل غلام رضا سمائی کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ سمائی بدھ کے روز حلب میں بشار الاسد کی فوج اور شامی اپوزیشن کے درمیان جھڑپوں کے دوران مارا گیا۔

ایرانی مسلح افواج کی ترجمان خبر رساں ایجنسی "ڈیفنس پریس" کے مطابق 58 سالہ جنرل سمائی بشار الاسد کی فوج کی سپورٹ کے لیے مشاورتی مشن کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوا۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنرل سمائی 30 برس پاسداران انقلاب میں خدمات سر انجام دینے کے بعد شام گیا تھا۔ وہ ایران عراق جنگ میں (1980 – 1988) باسیج ملیشیا کے ساتھ بطور رضاکار منسلک ہو کر شریک ہوا۔

غلام رضا سمائی کا تعلق ایران کے شمال مشرقی صوبے خراسان میں مشہد شہر کے علاقے تربہ حیدریہ سے تھا۔ وہ صوبے میں باسیج ملیشیا کا کمانڈر رہا اور ماضی میں الاہواز ریجن میں ایرانی انٹیلجنس ادارے کی قیادت بھی سنبھال چکا ہے۔

علاوہ ازیں جنرل سمائی مشرقی ایران کے سنی اکثریت والے صوبے بلوچستان میں بلوچی اپوزیشن کو کچلنے کے آپریشن کی قیادت بھی کرچکا ہے۔ صوبے میں بلوچی تنظیموں کی پاسداران انقلاب کے خلاف عسکری کارروائیوں کے سبب کئی سال سے شورشیں دیکھی جا رہی ہیں۔